خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 4

1952 4 خطبات محمود توجہ نہ تھی اور اس سال وہ ان کی طرف توجہ کریں گے تا آئندہ جلسہ سالانہ یا مجلس شوری کے موقع جی پر جماعت کے سامنے یہ بات پیش کی جائے کہ اب مرکز میں زندگی پیدا ہوئی ہے۔تمہیں بھی اپنے اندر زندگی پیدا کرنی چاہیے۔دوسری چیز جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ اسے منظم کرنا چاہیے وہ صوبجاتی نظام کی سکیم ہے۔پہلے پنجاب کا صوبہ صوبجاتی نظام سے باہر تھا لیکن اب خدا تعالیٰ کے فضل سے پنجاب کو بھی صوبجاتی نظام میں شامل کر دیا گیا ہے اور یہ خوشی کی بات ہے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ صوبہ پنجاب کے لئے کی یہ خوش قسمتی کی بات ہے کہ اسے ابتداء میں ہی ایسے کارکن مل گئے جو اپنے اندر قربانی اور ایثار کی روح کی رکھتے ہیں۔مگر خالی اچھے کارکنوں کا مل جانا کوئی چیز نہیں ہے۔ضرورت ہے کہ تمام کارکن اپنا چی پروگرام مقرر کریں اور پھر اس کے لئے وقت مقرر کریں اور اسے پورا کرنے کی کوشش کریں۔یہ امرضرور مد نظر رکھا جائے کہ پروگرام ایسا نہ ہو کہ جس پر عمل نہ کیا جا سکے۔بعض لوگ خیالی تجاویز بنا لیتے ہیں اور ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ انہیں پورا نہیں کر سکیں گے۔پروگرام ایسا ہونا چاہیے جس کو وہ مالی لحاظ سے، افراد کے لحاظ سے اور وقت کے لحاظ سے پورا کر سکتے ہیں۔یعنی عملی پروگرام ہونا چاہیے۔ایسا پروگرام تجویز نہ کیا جائے کہ جس کو مالی لحاظ سے جاری نہ کیا جا سکے۔ایسا پروگرام تجویز نہ کیا جائے جس کے لئے اتنے کارکنوں کی ضرورت ہو جو مہیا نہ ہو سکیں۔یا ایسا پروگرام ہوتی جس کے لئے زیادہ وقت کی ضرورت ہو۔ہر کام معقول اور طاقت کے مطابق ہونا چاہیے۔ہماری جو طاقت اور قوت ہے اُسی کے مطابق ہم کوئی پروگرام بنا سکتے ہیں۔اور اپنی طاقت کو خواہ وہ کتنی ہی قلیل ہو اگر صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو اس سے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔مثلاً ایک کی غریب آدمی ہے۔اس کے پاس ایک پیسہ ہے۔وہ پہلے بھوکا تھا۔اس پیسہ سے وہ آدھی روٹی بھی خرید لے گا تو ایک حد تک اس کی تکلیف ہلکی ہو جائے گی اور اس کا نتیجہ عملی طور پر نظر آئے گا۔طاقت کا صحیح استعمال اور اس کے مطابق کام کرنے کا نام پروگرام ہے۔یا مثلاً ایک شخص کے پاس ج دس پیسے ہیں۔فرض کرو کہ وہ ان کے ساتھ چنیوٹ جا سکتا تو وہ چنیوٹ چلا جائے گا اور تبلیغ کر آئے گا۔یا فرض کرو کہ وہ ان کے ساتھ چنیوٹ نہیں جاسکتا تو وہ وہاں پیدل چلا جائے گا اور ان دس پیسوں کی وہ روٹی کھالے گا۔پس خواہ کتنی قلیل طاقت ہوا سے خرچ کر کے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔