خطبات محمود (جلد 32) — Page 90
خطبات محمود 90 $1951 مثلاً نماز کو ہی لے لو اس میں بھی یہی قاعدہ چلتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نماز میں صفیں سیدھی رکھو۔اگر تم نماز میں صفیں سیدھی نہیں رکھو گے تو تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے۔1 اب صفوں کا سیدھا رکھنا بظاہر ایک غیر دینی چیز ہے یا محض نظام کا ایک حصہ ہے خود نماز کے مقصد اور اس کے فخر کے ساتھ اس کا زیادہ تعلق نہیں۔لیکن باوجود اس کے کہ نماز میں صفیں اپنی ذات میں مقصود نہیں ہوتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اتنی اہمیت دی کہ فرمایا اگر تم نماز میں صفیں سیدھی نہیں کرو گے تو تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے۔کیونکہ گو بعض چیزیں اپنی ذات میں مقصود نہیں ہوتیں لیکن اُن کا اثر ایسا پڑتا ہے کہ وہ اپنے سے بڑی چیزوں کو بھی اپنی زد میں بہالے جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اسلام کے بعض علماء نے اپنے وقت میں قشر پر زیادہ زور دیا تھا لیکن ان سے غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے اس پر اتنا زور دیا کہ مغز جا تا رہا۔حقیقت یہ ہے کہ مغز ہی اصل مقصود ہوتا ہے اور اگر مغز کو نظر انداز کر دیا جائے تو چھلکا کسی کام کا نہیں ہوتا۔چنانچہ صوفیاء نے یہ دیکھتے ہوئے کہ علماء اسلام چھلکے پر زیادہ زور دے رہے ہیں مغز پر زور دینا شروع کر دیا۔مگر یہ بھی ان کی غلطی تھی کیونکہ مغز چھلکے کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ایک اخروٹ جس کا چھلکا قائم ہو وہ سال بھر بھی رہ جائے گا اور اس کا مغز محفوظ رہے گا۔لیکن اگر اس کی گرمی نکال کر رکھ لو اور چھلکا پھینک دو تو اُسے کیڑا لگ جائے گا اور اُس کے ٹکڑے بھر نے شروع ہو جائیں گے۔ایک آم جس پر چھلکا قائم ہو مہینہ مہینہ رہ جائے گا۔لیکن اگر آم کا چھلکا اتار دو تو اُسے انسان شام کو بھی نہیں کھا سکتا۔وہ تیز اب بن جائے گا یا نجاست کا رنگ اختیار کر لے گا۔غرض جن لوگوں نے قشر پر زیادہ زور دے دیا اور مغز کو نظر انداز کر دیا انہوں نے بھی غلطی کی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے کوئی چیز بلا وجہ پیدا نہیں کی۔جس خدا نے چھلکا بنایا ہے اُسی نے مغز بھی بنایا ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے چھلکے اور مغز دونوں کو قیمت بخشی ہے۔میں نے یہ تمہید اس لیے باندھی ہے کہ میں نے بار بار اس طرف توجہ دلائی ہے کہ ہماری جماعت بعض اوقات چھلکے کو نظر انداز کر دیتی ہے اور صرف مغز کو مد نظر رکھتی ہے۔مثلاً نماز میں صفوں کو سیدھارکھنا ہے۔ہماری جماعت اس طرف توجہ نہیں کرتی۔یا پھر اذان ہے اس کی تصحیح کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔ایک نقص خلقی ہوتا ہے اس پر اعتراض کرنا جائز نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے