خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 244

$1951 244 خطبات محمود بتا دیا گیا کہ سارا عرب مل کر مسلمانوں پر حملہ کرے گا وَ ما زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا بجائے اِس کے کہ مومن ڈرتے ، گھبراتے اور کہتے کہ اس قدر قربانیاں کیسے ہوں گی اس حملہ اور تباہی نے اُن کے ایمانوں کو بڑھا دیا۔پھر صرف اُن کا ایمان ہی نہیں بڑھا بلکہ اُن کے عمل میں بھی ترقی ہوئی۔کیونکہ انہوں نے سمجھا کہ چونکہ خدا تعالیٰ کی ایک عظیم الشان پیشگوئی پوری ہوئی ہے اس لیے اس کے نتیجہ میں جو ثواب ملے گا وہ بھی عظیم الشان ہو گا۔نادان سمجھتا ہے کہ ترقی کا نشان بڑا نشان ہوتا ہے لیکن مومن کہتا ہے کہ ترقی کا نشان ہی بڑا نشان نہیں بلکہ آفات کا نشان بھی بڑا نشان ہے۔مثلاً اگر تم دیکھو کہ کسی غریب آدمی کی جیب سے ایک کروڑ روپیہ نکلا ہے تو تم حیران ہو گے لیکن ایک بچہ جو لکڑی کے سہارے سے چل رہا ہوتا ہے وہ اگر کہے کہ ایک دن روس اور امریکہ کی فوجیں اُس پر حملہ کریں گی تو کیا یہ کوئی کم نشان ہے۔اس بچہ کے متعلق تو کوئی خیال بھی نہیں کر سکتا کہ اس پر کوئی دس برس کا بچہ بھی حملہ کرے گا۔کسی کو یہ وہم بھی نہیں ہو سکتا کہ اُس پر ایک آدمی حملہ کر سکتا ہے۔کسی کو یہ خیال بھی نہیں آسکتا کہ اُس پر دس آدمی یا ایک گاؤں کے آدمی حملہ آور ہو سکتے ہیں۔گجا یہ کہ وہ کہے کہ مجھ پر دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں حملہ کریں گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن کی مکہ میں یہ حالت تھی کہ آپ نماز پڑھتے تھے تو کفار اوجھڑی آپ کے سر پر رکھ دیتے تھے وہ آپ کو مارتے تھے ، پیٹتے تھے، آپ پر کوڑا کرکٹ پھینکتے تھے اور آپ کے خلاف گند اُچھالتے تھے۔آپ کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ ایک دن آپ کی شان اتنی بڑھ جائے گی کہ سارا عرب مل کر آپ پر حملہ آور ہو جائے گا اور آپ کے خلاف یہودی اور مشرکین متحد ہو جائیں گے۔یہ کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔سارے عرب قبائل کا اکٹھا ہو جانا اور یہود کا اُن کے ساتھ مل جانا اور آپ پر حملہ آور ہونا کوئی کم نشان نہیں۔بیشک فتح مکہ ایک عظیم نشان تھا لیکن جنگ احزاب بھی اس سے کوئی کم بڑا نشان نہیں۔قرآن کریم میں فتح مکہ کا اتنا زور دار ذکر نہیں آیا جتناز ور دار ذکر جنگ احزاب کا ہے اور یہ ات عظیم الشان نشان ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ایک بیکس و بے بس انسان جس کا ہمسایہ بھی سمجھتا ہے کہ وہ اُسے مارسکتا ہے۔وہ اُسے وطن سے باہر نکال سکتا ہے ، لوگ اُسے حقیر سمجھتے ہیں، مارتے ہیں، پیٹتے ہیں، نماز پڑھتے ہوئے اُس پر جانوروں کی اوجھڑیاں پھینک دیتے ہیں۔وہ کہتا ہے کہ ایک دن سب عرب قبائل مل کر مجھ پر حملہ کریں گے لیکن وہ شکست کھا ئیں گے۔اور پھر واقع میں سب قبائل مل کر