خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 228

$1951 228 خطبات محمود سامنے سمندر ہے آپ حکم دیجیے ہم اس میں اپنے گھوڑے ڈالنے کے لیے تیار ہیں اور يا رسول اللہ اگر دشمن کا مقابلہ کرنے کا ہی فیصلہ ہوا تو ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔پس جب میں نے تم کو تین سال کہا یا دس سال کہا یا انہیں سال کہا تو مجھے پتا نہیں تھا کہ ہمارے سامنے خدا تعالیٰ کی کیا سکیم ہے۔جب میں نے تم سے کہا کہ آؤ اور تین سال کے لیے قربانی کرو تو اس وقت صرف احراری فتنہ سامنے تھا۔جب میں نے کہا آؤ اور دس سال تک قربانی کرو تو ہم نے سمجھا کہ باہر کی جماعتوں میں جو ہم نے چند مشن قائم کر دیئے ہیں یہ اس وقت تک اپنا کام کرنا شروع کر دیں گے۔اُس وقت میرا ذہن اس وسعت کی طرف نہیں گیا کہ ہم نے ساری دنیا میں اسلام کی تبلیغ کرنی ہے۔پھر میں نے دس سالہ تحریک کو انیس سال تک ممتند کر دیا اور ایک دوسرے دور کا بھی ساتھ ہی آغاز کر دیا کیونکہ اُس وقت مجھے ایک حد تک روشنی نظر آنے لگ گئی تھی اور کی کام نے اپنی عظمت کو ظاہر کرنا شروع کر دیا تھا۔مگر ابھی اس کام کی پوری اہمیت ہم پر روشن نہیں ہوئی تھی مگر سولھویں اور سترھویں سال میں آکر اللہ تعالیٰ نے اس سکیم کی عظمت کو مجھ پر روشن کر دیا اور میرا ذہن اس طرف مائل ہوا کہ اس سکیم کے لیے سالوں کی تعیین بے معنی ہے۔ہم نے ساری دنیا میں اسلام کی تبلیغ کرنی ہے، ہم نے چپہ چپہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت قائم کرنی ہے اور یہ کام چند سالوں کا نہیں یہ کام ہمیشہ ہمیش ہے۔پس میں نے جب کہا تھا کہ آؤ تین سال کے لیے قربانی کرو یا دس سال کے لیے قربانی کرو تو میں نہیں جانتا تھا کہ میرے سامنے کتنا بڑا کام ہے۔جب تم نے کہا کہ ہم تین سال کے لیے قربانی کرنے کے لیے تیار ہیں یا دس سال کے لیے قربانی کرنے کے لیے تیار ہیں تو تم بھی نہیں جانتے تھے کہ تمہارے سامنے کتنا بڑا کام ہے۔لیکن اب جبکہ تمہیں پتا لگ گیا ہے کہ تمہارا کیا کام ہے جبکہ تمہیں پتا ہی لگ گیا ہے کہ دنیا بھر میں اسلام پھیلانا تمہارا کام ہے اور مجھے پر خدا تعالیٰ کی سکیم کا ایک بڑا حصہ ظاہر ہو گیا ہے تو میرا مطالبہ بھی اس کے مطابق ہونا چاہیے اور تمہارا بھی اس وقت وہی جواب ہونا چاہیے جو مدینہ والوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا۔اب تمہیں بھی یہی کہنا چاہیے کہ اب تین یا دس یا انہیں کا کیا سوال ہے ہم اسلام کی حفاظت کے لیے اس کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی