خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 13

$1951 13 خطبات محمود یسعیاہ نبی نے ہزار بارہ سو سال پہلے خبر دیتے ہوئے بتایا تھا کہ عرب میں ایک نبی پیدا ہو گا جو دشمن کے ظلم سے تنگ آ کر بھاگے گا اور قوم اس کا تعاقب کرے گی۔اگر آپ ہجرت نہ کرتے اور اگر لوگ آپ کا تعاقب نہ کرتے تو دشمن کہتا کہ تم یہ کہتے ہو کہ یہ وہ نبی ہے جو موعود ہے اور جو پہلے انبیاء کی پیشگوئیوں کے مطابق آیا ہے حالانکہ پہلے نبیوں نے جو پیشگوئیاں کی تھیں اُن میں سے ایک یہ بھی خبر تھی کہ وہ ہجرت کرے گا تو بتاؤ کہ اس نبی نے کب ہجرت کی اور کہاں کی ؟ ایسی صورت میں ہم کیا جواب دیتے اور دشمن کو کس طرح خاموش کرا سکتے ؟ پس آپ کی ہجرت آپ کی عزت کا ثبوت تھی ، آپ کی ہجرت آپ کی سچائی کا ثبوت تھی اور آپ کی ہجرت آپ کے موعود ہونے کا ثبوت تھی۔اسی طرح یہ ہجرت اگر کسی اور نبی میں پائی جائے تو یہ اُس کے جھوٹا ہونے کی علامت نہیں ہو گی بلکہ اُس کے سچا ہونے کی علامت ہوگی۔اور اس بات کا ثبوت ہوگی کہ اُس کے لیے بھی خدا نے اس کی ہجرت کو ایک عزت کا ذریعہ بنایا ہے اور اس کے لیے بھی خدا نے اس ہجرت کو بزرگی کے اظہار کا ایک ذریعہ بہ ہے۔اصل بات تو یہ ہے کہ انسان میں تقوی ہونا چاہیے اور اسے سوچنا چاہیے کہ جو بات وہ کہہ رہا ہے دلیل اس کی کس حد تک تائید کرتی ہے؟ اگر دلیل اُس کی تائید نہ کرتی ہو تو اُسے اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔وہ غلط دلیل دیتا ہی کیوں ہے؟ اور اگر وہ غلط دلیل دے گا تو خواہ اسے بُرا لگے یا اچھا بہر حال جن لوگوں کی بزرگی کا وہ قائل ہے انہی نیک اور پاک اور بزرگ لوگوں کا اُسے حوالہ دینا پڑے گا تا کہ اسے اپنی غلطی کا احساس ہو۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے قرآن کریم نے خود یہ طریق اختیار کیا ہے اور کئی جگہ دوسرے انبیاء کی مثال دے کر بتایا ہے کہ تمہارا اعتراض درست نہیں۔اگر یہ قابلِ اعتراض چیز ہے تو اور انبیاء میں بھی پائی جاتی ہے۔اگر اس وجہ سے تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتے تو دوسرے انبیاء کو کیوں مانتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ انسان اتنی بات بھی نہ سمجھ سکے کہ جس بات پر وہ اعتراض کر رہا ہے وہ ان لوگوں میں بھی پائی جاتی ہے جن کو وہ سچا سمجھ رہا ہے۔پس رونے کا مقام یہ نہیں کہ ایک احمدی نے کیوں کہہ دیا کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی بلکہ رونے کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو اب اتنا بھی معلوم نہیں کہ ہجرت کرنا کوئی بُری بات نہیں۔نہ صرف یہ