خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 134

خطبات محمود 134 $1951 بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں کہ وہ دھواں دھار تقریریں کر ہی نہیں سکتیں۔مولوی شیر علی صاحب بڑے مستعد اور کام کرنے والے آدمی تھے۔وہ دن رات جاگتے اور سلسلہ کے کام سرانجام دیتے لیکن اُن کی طبیعت میں جوش نہیں تھا۔ان میں پارہ والی کیفیت پیدا نہیں ہوتی تھی۔ایک دفعہ میں نے کوئی ضروری مضمون لکھنا تھا لیکن میں بیمار ہو گیا۔میں نے مولوی صاحب کو بلایا اور کہا کہ آپ اس اس طرح ایک مضمون لکھیں اور جماعت کے اندر جوش پیدا کریں۔چنانچہ انہوں نے ایک مضمون لکھ دیا اور میں نے چھپنے کے لیے بھی دے دیا لیکن وہ پڑھ کر مجھے بہت ہنسی آئی کہ وہ جوش دلانے والا نہ تھا۔البتہ ہر دسویں فقرہ کے بعد یہ لکھا ہوا ہوتا تھا میں تمہیں زور سے کہتا ہوں“۔پس بعض طبائع ایسی بھی ہوتی ہیں۔لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ مفت میں تعریف کرانے اور انعام حاصل کرنے کا شوق رکھتے ہیں۔کوئی ایک آدھ بات کریں گے اور کہہ دیں گے کہ میں نے دھواں دھار تقریر کی۔دھوئیں سے تو رونا آتا ہے۔کیا تمہاری تقریر سے سامعین کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے؟ پھر آنکھوں سے پانی گرتا ہے کیا سامعین عرق ندامت سے بھیگ گئے تھے؟ اور اگر ایسا ہوتا اور سامعین کو کہہ دیا جاتا کہ وہ اب خواہ کوئی چیز بیچیں لیکن وعدہ کو ضرور ادا کریں اور پھر ایک حد تک وعدے ادا ہو جاتے تو ہم سمجھتے کہ تقریر دھواں دھار تھی۔لیکن ان تقریروں کے نتیجہ میں نہ تو کسی کی آنکھوں میں آنسو آئے اور نہ کسی کو ندامت کی وجہ سے پسینہ آیا۔جیسے لوگ ہنستے ہوئے آئے تھے ویسے ہی ہنستے ہوئے چلے گئے۔نہ کسی نے جیب سے پیسہ نکالا اور نہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کا وعدہ کیا۔پھر دھواں دھار کیا ہوا؟ مفت میں تعریف حاصل کرنا کوئی چیز نہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ 1 تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ بہت سی ذمہ داری کارکنوں پر ہے کہ انہوں نے جماعت کے افراد کو صحیح رستہ پر لانے کی کوشش نہیں کی۔جلسہ کی غرض یہ تھی کہ وہ لوگوں کو اُن کی غلطی کا احساس کرا دیتے اور انہیں نادم کرتے اور اس کے بعد وعدے وصول کرتے۔اور اگر دس پندرہ فیصدی وعدے بھی ادا ہو جاتے تو مجھے خوشی ہوتی۔انہوں نے خدا تعالیٰ کو نو ماہ تک ناراض کیا ہے۔اگر وہ اسے جلدی خوش نہیں کرتے تو عدے کا فائدہ ہی کیا تھا؟ اگر ان جلسوں سے ہمیں کوئی فائدہ ہوتا تو وہ تقریریں دھواں بھی رکھتی تھیں