خطبات محمود (جلد 32) — Page 129
$1951 129 خطبات محمود ضروری ہے۔اور چندوں کے وعدے کرنا اور پھر وقت پر ادا کرنا اور نیک نمونہ تبلیغ دین کے لیے ضروری ہے۔" تم میں سے بعض جب غیر احمدیوں سے بات کرتے ہیں تو اُن کے منہ سے جھاگ آنے کی لگتی ہے کہ ہم نے فلاں ملک میں تبلیغ کی ہے، فلاں ملک میں مبلغ بھیجے ہیں حالانکہ انہوں نے تحریک جدید میں پانچ روپے کا حصہ بھی نہیں لیا ہوتا۔جس شخص نے سو روپیہ دیا ہوتا ہے وہ تو خاموش رہتا ہے لیکن جس نے اس میں سرے سے حصہ ہی نہیں لیا ہوتا وہ جب کسی غیر احمدی سے بات کرتا ہے تو اُس کے منہ سے جھاگ آنے لگتی ہے۔اگر یہ بات واقعی اچھی اور قابل فخر ہے کہ جماعت نے غیرممالک میں مشن کھولے ہیں جن کے ذریعہ اسلام کی تعلیم کو پھیلایا جا رہا ہے تو تم تکلیف اُٹھا کر بھی تحریک جدید میں حصہ لو۔یہ کوشش کرو کہ سوائے اشد معذور پن کے سب لوگ اس میں حصہ لیں۔کوئی ایسا آدمی جو مالی لحاظ سے اس تحریک میں حصہ لینے کے قابل ہے اس سے پیچھے نہ رہے۔اور پھر باہر کی جماعتوں میں اپنا نمونہ پیش کرو۔میں نے اپنے گھر کے افراد کو چیک کیا ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ پچھلے تین سالوں سے ہمارے خاندان کے افراد کی طرف سے بھی چندہ تحریک جدید کی وصولی کم ہوئی ہے۔گو اس بات کا آپ کو پتا نہیں لیکن مشہور ہے ” دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔خاندان مسیح موعود کے دلوں کا ربوہ کی جماعت کے دلوں پر اثر پڑا اور انہوں نے بھی سستی کی اور پھر اِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّه جب مرکزی خرابی ہوئی دوسروں پر بھی اس کا اثر ہوا۔پس تم کو کم سے کم جو چیز سامنے ہو اُس کی تو تنظیم کر لینی چاہیے اور یہ کوئی مشکل امر نہیں۔اگر آپ اپنی مکمل تنظیم کر لیں تو پھر آپ دوسری جماعتوں کو کہہ سکتے ہیں کہ ہم سب مہاجر ہیں۔شاذ و نادر ہی ہم میں سے کوئی مقامی ہو، اگر ہم اتنی قربانی کر سکتے ہیں تو آپ کیوں نہیں کر سکتے ؟ ہم نے کام کو بڑھانا ہے گرانا نہیں۔مگر اسے گرنے سے بچانا زیادہ مقدم ہے۔بچہ پیدا کرنے کے لیے تم کیا کیا جتن نہیں کرتے۔کئی احمدی دوا فروش حَبّ اٹھرا بیچ رہے ہیں۔اب کوئی شخص حَبّ اٹھرا خریدے اور اُدھر بچے کا گلا گھونٹ دے تو اُسے کون عقلمند خیال کرے گا۔جب وہ حَبّ اٹھرا پر رقم خرچ کرتا ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ بچہ کو بچانا چاہتا ہے۔یہ نہیں کہ ایک طرف وہ حَبّ اٹھرا خریدے اور دوسری طرف وہ بچہ کا گلا گھونٹ دے۔پس اگر یہ بات سچی ہے کہ