خطبات محمود (جلد 32) — Page 96
$1951 96 خطبات محمود حقیر آدمی۔ہماری اور اس کی کیا نسبت؟ ہمیں اس سے کیا واسطہ؟ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا۔تمہارا اُس سے یہ واسطہ ہے کہ تم اگر اُس کی طرف ایک دفعہ جاؤ تو وہ تمہاری طرف دس دفعہ آتا ہے۔تو اب کے معنے ہیں بار بار آنے والا۔گویا اگر تم خدا تعالیٰ کی طرف ایک دفعہ متوجہ ہوتے ہو تو وہ تمہاری طرف دس دفعہ ہیں دفعہ سو دفعہ بلکہ ہزار دفعہ آتا ہے۔تم اُس کی رحمت اور فضل سے مایوس نہ ہو بلکہ اُسے جذب کرنے کے لیے سب ذرائع استعمال کرو۔یہ مت کہو کہ خدا تعالیٰ کو ہم سے کیا نسبت؟ وہ بلند وارفع شان والی ہستی ہے اور ہم حقیر انسان۔ہم ایک ذرہ کو پیدا نہیں کر سکتے بلکہ ریت کا ایک ذرہ بھی ہمارے اندر جا کر اپنڈے سائیٹس (Appendicitis) پیدا کر دیتا ہے، ہم اس کا علاج نہیں جانتے بلکہ بعض دفعہ ہمارے ڈاکٹر بھی حیران رہ جاتے ہیں۔پس وہ خدا جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ، جس نے وسیع جو اور دوسری سب چیزوں کو پیدا کیا ہمیں اس سے کیا نسبت؟ اگر ہم پر کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے یا ہماری بیوی ، بچوں ، ماں، باپ، بہن، بھائیوں اور دوستوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا ہماری تجارت میں گھانا پڑتا ہے تو ہمیں اُس سے کیا واسطہ؟ فرمایا تم اس طرح نہ کرنا کیونکہ تمہارا خدا تعالیٰ کے ساتھ اتنا واسطہ نہیں جتنا واسطہ اُس کا تمہارے ساتھ ہے۔تم اگر اُس کی طرف ایک دفعہ توجہ کرتے ہو تو وہ تمہاری طرف سو دفعہ توجہ کرتا ہے۔صرف فرق یہ ہے کہ تم اُس کی طرف توجہ کرنا جانتے نہیں۔تم اُس کی تسبیح کرو تحمید کرو، استغفار کرو۔تمہارے ایک دفعہ توجہ کرنے کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ تمہاری طرف دس ہمیں دفعہ، سود فعہ بلکہ ہزار دفعہ توجہ کرے گا۔غرض خدا تعالیٰ نے مصائب سے بچنے کا یہ گر بتایا ہے لیکن اُس سے وہی شخص فائدہ اُٹھا سکتا ہے جو زندہ خدا پر یقین رکھتا ہے، جو روحانیت پر یقین رکھتا ہے۔پھر وہ یہ یقین رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ اور انسان کے درمیان تعلق قائم ہو سکتا ہے۔لیکن وہ لوگ جو زندہ خدا اور زندہ مذہب پر یقین نہیں رکھتے ، جو تمام دنیا کی پیدائش کو اتفاقی حادثات کا نتیجہ خیال کرتے ہیں، جو اپنے نفس کو کافی سمجھتے ہیں اور ہستی باری تعالیٰ کے دلائل کو بیچ اور محض اوہام سمجھتے ہیں وہ اس گر سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔لیکن مومن اور بھی ہوشیار ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ اُس کے پاس وہ زبر دست روحانی ہتھیار ہے جو دوسروں کے پاس نہیں۔دوسرے وہ ہتھیار تیار نہیں کر سکتے۔وہ اس ہتھیار کی قدر نہیں جانتے۔صرف یہی اس کی قدر جانتا ہے۔اور جس شخص کے پاس ایسا کارگر