خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 54

$1951 54 خطبات محمود ہو گا جو تمام قسم کے زنگوں اور آلائشوں سے پاک ہوگا اور پھر یہاں رہ کر ہم اسلام کو تمام دنیا میں پھیلانے کی تدابیر سوچ سکیں گے۔یہ باتیں لاہور یا کسی اور شہر میں ہمیں میسر نہیں آسکتیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طاقت میں سب کچھ ہے مگر بظاہر حالات اگر ہمیں وہاں اکثریت بھی حاصل ہو تب بھی وہ اکثریت کہیں پچھپیں چھبیس سال میں حاصل ہوگی لیکن یہاں فوری طور پر اکثریت حاصل ہو جائے گی۔یہ بالکل اُجڑی ہوئی جگہ تھی۔یہاں کوئی آبادی نہ تھی۔جب یہاں دس پندرہ خیمے لائے گئے تب بھی یہاں ہمیں اکثریت حاصل تھی اور اب جب کچھ مکانات بن گئے ہیں تب بھی ہمیں اکثریت حاصل ہے لیکن لاہور میں ہم پندرہ سو مکانات کے ساتھ بھی مرکز نہیں بنا سکتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اگر دہلی میں تشریف لے جاتے اور ہزاروں آدمی وہاں ایمان لے آتے تب بھی وہ مرکز نہ ہوتا لیکن قادیان مرکز ہو گیا کیونکہ وہ ایک چھوٹی سی جگہ تھی اور وہاں جماعت جلد پھیل گئی اور اس نے اکثریت حاصل کر لی ، اپنا دینی ماحول پیدا کر لیا۔اور مرکز کے معنے ہی یہ ہوتے ہیں کہ ایسی جگہ جو دوسروں سے الگ ہو، جہاں ایک ہی خیال کے لوگ بستے ہوں اور اسلام کی اشاعت اور اس کو تمام دنیا میں پھیلانے کی تجاویز صبح، دوپہر، شام اور رات ہمارے کانوں میں پڑتی ہوں۔ایسے مراکز کی ہمیں ہر جگہ ضرورت ہو گی۔پنجاب میں بھی ان کی ضرورت ہو گی، سندھ میں بھی ان کی ضرورت ہوگی سرحد میں بھی ان کی ضرورت ہوگی ، بنگال میں بھی ان کی ضرورت ہوگی تا کہ ہم تبلیغی اور تعلیمی کام کو جاری رکھ سکیں۔لیکن اس کے لیے روپیہ کی ضرورت ہے تا کہ ہم سلسلہ کے دفاتر بنا سکیں اور لوگوں کی صحیح رنگ میں نگرانی کی جا سکے۔اگر یہ سب چیزیں میسر آجائیں تو متعدد مراکز قائم ہو سکتے ہیں۔اور اگر یہ چیزیں میسر نہ آئیں تو ایک جگہ میں بھی مرکز قائم رکھنا مشکل ہے۔پس ہمیں خدا تعالیٰ سے دعائیں کرنی چاہیں کہ وہ ہمارے اس عارضی مرکز کو برکت دے اور اسلام کی اشاعت کی تقدیر جو اس نے جاری کی ہے وہ اسے وسیع کرنے کی ہمیں توفیق دے موجودہ ضعف اور کمزوری کے دوروں سے جماعت کو جلد نکالے اور ہمارے نوجوانوں میں دینی روح پیدا کرے تاکہ دین کی طرف انہیں رغبت پیدا ہو۔کیونکہ جب تک آئندہ دین سے رغبت رکھنے والی نسل پیدا نہ ہو وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی اور اس کا کام اس کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔لیکن ہم نے اسلام کی اشاعت کے کام کو ختم نہیں کرنا بلکہ اسے زیادہ سے زیادہ وسیع کرنا ہے۔پس ہمیں