خطبات محمود (جلد 32) — Page 25
$1951 25 25 خطبات محمود علمیت رکھنے والے اور دنیوی لحاظ سے بڑی حیثیت رکھنے والے میدان ہار جاتے ہیں اور ایک غریب آدمی معقول باتوں کی وجہ سے میدان جیت لیتا ہے۔غرض جماعت کی باگیں چونکہ ایک مرکز کے ہاتھ میں ہیں اس لیے کمزور کو کھینچ کر آگے کر دیا جاتا ہے اور طاقتور کو کھینچ کر پیچھے کر دیا جاتا ہے تا کہ وہ اپنے باقی ساتھیوں کے ساتھ چلے اور طاقتور اور کمزور میں غیر معمولی تفاوت پیدا نہ ہو جائے۔یوں بھی اسلام نے جماعتی حیثیت کے برقرار رکھنے اور مل کر کام کرنے کو اتنی اہمیت دی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نماز با جماعت کا دس گنے زیادہ ثواب ہوتا ہے۔3 اب سوال یہ ہے کہ مسجد میں نماز پڑھنے سے کیوں زیادہ ثواب ملتا ہے؟ کیا مسجد کی اینٹوں کی وجہ سے ثواب ملتا ہے؟ مسجد کی اینٹوں کی وجہ سے ثواب نہیں ملتا بلکہ اس لیے ملتا ہے کہ وہاں مومن اکٹھے ہوتے ہیں اور اجتماع قومی طاقت کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔گویا مسجد بھی ایک کی خلیفہ ہے جو مومنوں کو اکٹھا رکھتی ہے۔پس جو مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے گیا وہ در حقیقت ایک چھوٹے خلیفہ کے مظہر کے پاس گیا اور اس کی نماز دس گنا زیادہ ثواب لے گئی۔ان مساجد سے زیادہ خانہ کعبہ کی مسجد میں لوگ اکٹھے ہوتے ہیں۔اس طرح مدینہ منورہ کی مسجد نبوی لوگوں کو اکٹھا کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور چونکہ خانہ کعبہ جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بنایا اور مسجد نبوی جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازیں پڑھیں تمام دنیا کے لوگوں کو جمع کرنے کا ایک ذریعہ ہیں اس لیے ان میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد کی نمازوں سے بھی زیادہ ہے۔ورنہ خانہ کعبہ کو کوئی سونے کی اینٹیں نہیں لگی ہوئیں اور نہ مدینہ منورہ کی مسجد میں ہیرے اور جواہرات لگے ہوئے ہیں۔ان کی اینٹیں ویسی ہی ہیں جیسے تمام مساجد کی ہوتی ہیں۔پھر کیا چیز ہے جس کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان مساجد میں نماز پڑھنا زیادہ ثواب کا موجب قرار دیا ہے؟ وہ چیز یہی ہے کہ یہ مساجد خدا اور رسول کی محبت کی وجہ سے دنیا کے لوگوں کو اکٹھا کرتی ہیں۔اور چونکہ یہ باعث ہیں لوگوں کو اکٹھا نہی کرنے کا اور اکٹھا ہونا ایک برکت والی چیز ہے اور اکٹھے مل کر کام کرنے سے بہت بڑے فوائد حاصل ہوتے ہیں اس لیے ان مساجد میں نماز پڑھنا بھی زیادہ ثواب کا موجب قرار دے دیا گیا۔بہر حال اسلام کا باجماعت نمازوں کے لیے لوگوں کو مسجد میں جانے کی تلقین کرنا یا ایک امام کے پیچھے ان کو کھڑا ہونے اور اس کی اقتدا کرنے کی نصیحت کرنایا مسجد نبوی اور خانہ کعبہ کی مسجد میں نماز پڑھنے کو بہت زیادہ