خطبات محمود (جلد 32) — Page 249
$1951 249 خطبات محمود انہوں نے جو کچھ کہا تھا اُسے پورا بھی کر دکھایا۔پس مومن کی علامت تو یہ ہوا کرتی ہے کہ وہ ہر وقت قربانی کے مواقع کی تلاش میں رہتا ہے۔جیسے چڑیاں دانے کی تلاش میں رہتی ہیں اسی طرح مومن قربانی کے راستوں کی تلاش میں رہتا ہے۔وہ رستے تلاش کرنے سے گھبرا تا نہیں بلکہ رستہ مٹ جاتا ہے تو گھبراتا ہے۔خالد بن ولید سے مسلمانوں کا بچہ بچہ واقف ہے۔وہ جب فوت ہونے لگے تو اُن کے ایک دوست اُن کے پاس گئے۔وہ رور ہے تھے۔آپ کے اس دوست نے کہا خالد ! مرنا تو سب نے ہے پھر تم رو کیوں رہے ہو ؟ خالد نے کہا تم بھی میری طبیعت کو نہیں سمجھے۔میں اس وجہ سے نہیں روتا کہ میں موت سے ڈرتا ہوں بلکہ میں اس وجہ سے روتا ہوں کہ میں نے شہادت کا کوئی موقع ہاتھ سے کی جانے نہیں دیا لیکن مجھے شہادت نصیب نہ ہوئی اور میں بستر پر مر رہا ہوں۔میری ٹانگوں سے کپڑا اٹھاؤ اور دیکھو کہ کیا کوئی ایسی جگہ ہے جہاں تلوار کا زخم نہیں ؟ انہوں نے ٹانگوں پر سے کپڑا اٹھایا اور رانوں تک لے گئے اور کہا خالد ! یہاں کوئی ایسی جگہ نظر نہیں آتی جہاں تلوار کا زخم نہ ہو۔پھر انہوں نے اپنا سینہ دکھایا، باز و دکھائے، پیٹھ دکھائی لیکن وہاں بھی کوئی ایسی جگہ نہ تھی جہاں تلوار کا زخم نہ ہو۔خالد کہنے لگے کیا اب تم سمجھ سکتے ہو کہ میں نے کوئی ایسا موقع جانے دیا ہے کہ جب دشمن کا وار اپنے اوپر نہ لیا ہو؟ میں خطر ناک سے خطرناک جگہ پر گیا تا کسی طرح شہادت نصیب ہو، میرے جسم کی ہر جگہ اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ مجھے شہادت کا انتہائی شوق تھا لیکن پھر بھی میں بستر پر کر رہا ہوں۔پتا نہیں میری وہ کونسی شامت اعمال تھی جس نے مجھے اس سے محروم رکھا۔13 دیکھو! یہ اُس شخص کی حالت ہے جو مسلمانوں میں نمونہ کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔جس کے حالات زندگی پڑھ کر مسلمان نوجوانوں کا خون جوش مارنے لگ جاتا ہے۔وہ اتنی قربانی کے بعد رورہا ہے کہ اسے شہادت کا موقع نہیں ملا۔پھر تم دس اور انیس سال کا سوال کر کیسے سکتے ہو؟ یہ تو زندگی اور ان موت کا سوال ہے۔یہ کام انسان کی زندگی سے شروع ہوتا ہے اور اس کی موت پر ختم ہوتا ہے۔تم اچھی طرح سمجھ لو کہ یہ تعجب کی بات نہیں کہ ”دس“ سے ”19 “ کیسے ہو گئے اور پھر 19 “ سے ” ہمیشہ“ کیسے ہو گیا۔بلکہ تعجب کی یہ بات ہے کہ میرے جیسا آدمی جس نے قرآن کریم کا گہرا مطالعہ کیا ہے اُس کی زبان دس یا انہیں کہتے ہوئے کانپ کیوں نہ گئی۔اس نے یہ کیوں سمجھ لیا کہ تبلیغ اسلام دس یا انیس سال کا کام ہے؟ تم اچھی طرح سمجھ لو کہ یہ تعجب کی بات نہیں کہ دس یا انیس سال کے لیے قربانی کرنے کو کیوں