خطبات محمود (جلد 32) — Page 245
$1951 245 خطبات محمود اس پر حملہ آور ہوتے ہیں۔اور جیسا کہ اُس نے پہلے بتایا ہوتا ہے انہیں اس کے مقابلہ میں شکست نصیب ہوتی ہے۔گویا اس کی پیشگوئی کے دونوں حصے پورے ہوتے ہیں۔قبائل حملہ آور بھی ہوتے ہیں اور پھر انہیں شکست بھی ہوتی ہے۔مومن کہتا ہے کہ یہ عذاب کی بات نہیں بلکہ دشمن کا ایک ایک آدمی جو اس جنگ میں شریک ہوا ہے وہ خدا تعالیٰ کا عظیم الشان نشان ہے کیونکہ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ اس طرح مشرق، مغرب، شمال اور جنوب کے قبائل اکٹھے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آور ہوں گے اور آپ کے خلاف یہود اور مشرکین آپس میں معاہدہ کر لیں گے۔اسی لیے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب مومنوں نے دیکھا کہ سب قبائل اکٹھے ہو کر مدینہ پر حملہ آور ہوئے ہیں تو انہوں نے کہا هَذَا مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا اِيْمَانًا وَتَسْلِيمًا۔اللہ اللہ! یہ کتنا بڑا معجزہ ہے۔دوسرے لوگ کہتے ہیں اتنا بڑا دشمن حملہ آور ہوا ہے پتا نہیں کیا ہوگا لیکن مومن کہتا ہے اللہ اکبر ! یہ کتنا بڑا معجزہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں پہلے سے بتا دیا تھا کہ اسی کمزور انسان پر جسے ہم نے نبی مقرر فرمایا ہے ایک وقت میں عرب لوگ گھبرا کر اور سب اکٹھے ہو کر حملہ کریں گے اور عرب اس کے مقابلہ کے لیے اپنی ساری شوکت کو جمع کرنے پر مجبور ہوگا۔اصل مضمون کے ساتھ تو ان آیات کا اتنا ہی تعلق تھا لیکن جب اگلی آیت سامنے آ جاتی ہے تو گد گدیاں سی ہونے لگتی ہیں اور اُسے بغیر کچھ بیان کیے چھوڑا نہیں جا سکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا۔اس آیت میں مومن کے ایمان کا معراج بتایا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مومنوں میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا الله عَلَيْهِ - خدا تعالیٰ سے جو وعدہ انہوں نے کیا تھا اُسے انہوں نے پورا کر دیا ہے۔خدا تعالیٰ اگر اپنا وعدہ پورا کرتا ہے تو یہ اُس کے لیے آسان امر ہوتا ہے۔وہ آقا ہے، مالک ہے۔لیکن بندہ تو کمزور اور ضعیف ہے۔وہ اگر خدا تعالیٰ سے وعدہ کرے اور پھر اُسے پورا کرے تو یہ بڑی شان کی بات ہے۔ނ فرمایا بعض لوگ تو ایسے ہیں فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَہ کہ جو وعدہ انہوں نے خدا تعالیٰ۔کیا تھا وہ انہوں نے لفظاً لفظاً پورا کر دیا یعنی کچھ تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنی جان کی بھینٹ چڑھا کر اپنے وعدہ کو پورا کر دیا۔وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ اور کچھ ایسے ہیں کہ وہ اس لیے کہ انہیں