خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 16

خطبات محمود 16 $1951 پس یہ معمولی حالات نہیں۔جماعت کو اپنے اندر بیداری پیدا کرنی چاہیے اور اپنی اصلاح کی۔کوشش کرنی چاہیے تا کہ اگر کچھ لوگوں کے اعمال کی وجہ سے یہ سزا کا سامان بھی ہو تب بھی وہ اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کر لیں کہ یہ عذاب رحمت کا موجب بن جائے۔جیسے یوناہ نبی کے زمانہ میں ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یوناہ نبی کی قوم پر اپنا عذاب نازل کرنا چاہا مگر جب اُس قوم نے اپنی اصلاح کی اور توبہ اور گریہ و زاری سے کام لیا تو وہی عذاب اُس کے لیے رحمت بن گیا 3۔پس ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ عذاب آتے ہیں مگر وہ انسانوں کے لیے رحمت بن جاتے ہیں۔اسی لیے میں نے یہ تحریک کی ہے کہ ان دنوں اپنی کامیابی اور دشمن کی ناکامی کے لیے متواتر دعائیں کی جائیں اور ہر پیر کے دن روزہ رکھا جائے تا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اگر کوئی خرابی یا نقصان اس وقت ہمارے لیے مقدر ہو تب بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کو بدل دے، ہمیں طاقت اور غلبہ عطا فرمائے اور ہمارے دشمنوں کو اُن کی کوششوں میں ناکام بنادے۔( الفضل 4 مارچ 1951ء) :1 : مَا يُقَالُ لَكَ إِلَّا مَا قَدْ قِيْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ (حم السجده: 44) 2: وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُوْنَ الطَّعَامَ (الفرقان: 21) 3 : یوناہ باب 3 آیت 1 تا 10