خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 237

$1951 237 خطبات محمود مضمون کو بیان کرنے کا مجھے موقع نہیں مل سکا تھا۔پچھلے جمعہ تحریک جدید کے اٹھارہویں سال کی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے میں نے بتایا تھا کہ جماعت کے کئی افراد کے دلوں میں اس تحریک کے متعلق شبہات پیدا ہوئے ہیں اور بعض نے مجھے لکھا بھی ہے کہ یہ تحریک پہلے تین سال کے لیے جاری کی گئی تھی ، پھر اسے دس سال تک بڑھایا گیا ، پھر دس سے انیس سال تک بڑھا دیا گیا اور اب آپ کے بعض اشارات سے پتا لگتا ہے کہ اس تحریک کی میعاد اور بڑھنے والی ہے۔میں نے بتایا تھا کہ اس کے دو پہلو ہیں۔اس کا ایک پہلو واقعاتی لحاظ سے ہے اور ایک پہلو سنت اللہ کے لحاظ سے ہے۔یعنی ہم دو طرح سے کسی چیز کو بُرا کہ سکتے ہیں۔یا تو وہ چیز واقعات کے خلاف ہوتی ہے اور یا سنت اللہ کے خلاف ہوتی ہے۔میں نے بتایا تھا کہ سنت اللہ میں یہ بات بھی پائی جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ بعض دفعہ کسی چیز کی تھوڑی سی حقیقت ظاہر کر کے لوگوں کو اس طرف لاتا ہے اور جب اُن کا ذوق ترقی کر جاتا ہے، اُن کا شوق بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے اندر قربانی میں بشاشت محسوس کرنے لگتے ہیں تو وہ حقیقت پر سے پردہ اٹھا دیتا ہے۔میں نے اس کی دو مثالیں دی تھیں۔ایک مثال میں نے جنگِ بدر کی دی تھی کہ صحابہ کو مدینہ سے یہ کہ کر نکالا گیا تھا کہ تمہارا مقابلہ یا تو شام سے آنے والے تجارتی قافلہ سے ہو گا اور یا مکہ سے آنے والے کفار کے لشکر سے ہو گا۔لیکن جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے مقام کے قریب پہنچے تو آپ نے فرمایا ہماری مکہ سے آنے والے لشکر سے لڑائی ہوگی۔آب بولو! تمہاری کیا رائے ہے؟ میں نے بتایا تھا کہ اُس وقت صحابہ کرام خصوصاً انصار نے کہا کہ ہمارے ساتھ معاہدے اُس وقت تک تھے جب تک ہم پر حقیقت نہیں کھلی تھی۔اب ہم پر حقیقت کھل گئی ہے اب جہاں بھی ہمیں جھونکے ہم تیار ہیں۔2 لیکن یہاں تو کوئی معاہدہ نہیں صرف ایک اعلان تھا جو میں نے کیا۔دوسری مثال میں نے یہ دی تھی کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی علیہ السلام سے تمہیں راتوں کا وعدہ کیا تھا۔پھر اُسے چالیس کر دیا گیا۔3 اس پر آریوں اور عیسائیوں نے اعتراضات کیے ہیں کہ اسلام کا خدا نَعُوذُ بِاللهِ جھوٹا ہو گیا۔اُس نے موسی علیہ السلام سے تمہیں راتوں کا وعدہ کیا تھا پھر اُسے چالیس کر دیا۔ہم اس کا یہی جواب دیتے آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے انعامات کو زیادہ کرنا وعدہ خلافی نہیں۔حضرت موسی علیہ السلام کو میں راتوں کی بجائے چالیس راتیں ہیے