خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 15

$1951 15 خطبات محمود قائم نہیں ، ہم ظلم سے بھی دریغ نہیں کرتے ، ہم دھوکا اور فریب سے بھی کام لے لیتے ہیں تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کے لیے کوئی نشان نہیں دکھایا کرتا۔یہ مخالفت شاید ہمیں سزا دینے کے لیے پیدا کی جارہی ہے۔پس جماعت کے لیے یہ ایک بڑ المحہ فکریہ ہے۔ہم میں سے ہر شخص کو سوچنا چاہیے اور بار بار سوچنا چاہیے کہ ہماری عملی حالت کیا ہے اور یہ مخالفت کیوں انتہا کو پہنچ رہی ہے۔آخر آدمیوں سے ہی قوم بنتی ہے۔بیشک زید قوم نہیں، بکر قوم نہیں ، عمر قوم نہیں مگر زید، بکر اور عمر مل کر قوم ہیں۔الگ الگ دیکھا جائے تو ہر شخص ایک فرد کی حیثیت رکھتا ہے لیکن انہی افراد کے مجموعہ کا نام قوم ہو جاتا ہے۔پس ہم میں سے ہر شخص کو اس مخالفت کو دیکھتے ہوئے یہ سوچنا چاہیے کہ کیا اس میں وہ تقوی پایا جاتا ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رکھتا ہے؟ کیا اس میں کامل سچائی پائی جاتی ہے؟ کیا وہ فریب تو نہیں کرتا؟ کیا وہ دھوکا بازی سے تو کام نہیں لیتا؟ کیا وہ نمازوں کا پابند ہے؟ کیا وہ انصاف سے کام لیتا ہے؟ کیا وہ خدا تعالیٰ سے سچی محبت رکھتا ہے؟ کیا وہ اسلام کے لیے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لیے تیار ہے؟ کیا وہ بنی نوع انسان کا ہمدرد ہے؟ اگر یہ تمام باتیں اس میں پائی جاتی ہیں تو اُسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس مخالفت کے ذریعہ خدا تعالیٰ اسے مارنے نہیں لگا کیونکہ اُس نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جو خدا تعالی کو ناراض کرنے والا ہو۔لیکن اگر افراد قوم میں کثرت ایسے لوگوں کی ہو جو یہ کہیں کہ ہم میں یہ باتیں نہیں پائی جاتیں، نہ ہمارے دلوں میں خدا تعالی کی سچی محبت پائی جاتی ہے، نہ ہم اس کے لیے قربانی کرتے ہیں، نہ ہمارے اندر دین کی خدمت کا کوئی جوش پایا جاتا ہے، نہ ہم نمازوں کے پابند ہیں، نہ ذکر الہی کے عادی ہیں، نہ جھوٹ اور فریب سے بچتے ہیں، نہ ظلم اور فساد سے پر ہیز کرتے ہیں، نہ اخلاق کے معیار پر پورے اترتے ہیں تو پھر انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہ مخالفت کسی نشان کے ظہور کا پیش خیمہ نہیں ہو سکتی۔یہ انہیں گناہوں کی سزا دینے کے لیے پیدا کی جا رہی ہے۔اس صورت میں انہیں بہت زیادہ فکر کرنا چاہیے اور اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔عام حالات میں انسان کا غافل رہنا بعض دفعہ قابل معافی بھی ہو جاتا ہے لیکن اگر سامان ایسے ظاہر ہورہے ہوں جن سے یہ خطرہ ہو کہ یہ سامان شاید ہماری سزا کے لیے پیدا کیے جا رہے ہیں تو اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص اپنی اصلاح نہیں کرتا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے خاندان اور اپنی قوم کو تباہ کرتا ہے۔