خطبات محمود (جلد 32) — Page 211
خطبات محمود 211 $1951 گو بالا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہر کام میں عموماً اور اہم مذہبی اور قومی کاموں میں خصوصاً خدا تعالیٰ کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور جب اُسے مدد کے لیے انسان بلاتا ہے تو وہ اُس کی مدد کو آتا ہے۔جب تم دیکھتے ہو کہ یہ کام ہماری طاقت سے باہر ہے، جب تم دیکھتے ہو کہ کامیابی کے تمام راستے ہم پر بند ہو گئے ہیں، جب باوجود محنت اور زور لگانے کے تم کسی کام کو سرانجام نہیں دے سکتے تو خدا تعالیٰ کو بلاؤ وہ تمہاری مدد کے لیے آئے گا۔اس نکتہ کو اگر تم مضبوطی سے پکڑ لو گے تو تمہاری تمام مشکلات حل ہو جائیں گی۔جماعت کی مخالفت بڑھ رہی ہے اس سے ڈرنا نہیں چاہیے۔یہ کوئی چیز نہیں۔خدا تعالیٰ کی طرف جاؤ اور اُس سے مدد چاہو۔جب تم یہ کہو گے کہ خدایا! یہ کام تیرا ہے، جب تم دیانتداری سے اپنے فرض کو ادا کرو گے اور پھر کہو گے خدایا! ہم سے جو ہوسکتا تھا وہ ہم نے کر لیا ہے مگر کام ہمارے ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے اے اللہ! آب آ، تو آ اور اس کام میں ہماری مدد کر تو پھر یا درکھو! خواہ رات ہو یا دن صبح کی ہو یا شام، سویرا ہو یا اندھیرا خدا تعالیٰ اور اُس کی فوجیں آئیں گی اور وہ دشمن جسے اپنی فوجوں اور اپنی طاقت پر ناز ہوگا وہ تہیں نہیں ہو جائے گا اور زمین پر اُس کا نشان اور رنگ بھی باقی نہیں رہے گا۔لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کام کو خدا تعالیٰ کا کام سمجھا جائے ، ضرورت اس بات کی ہے کہ تم اپنی ای ذمہ داری کو ادا کر کے خدا تعالیٰ کی طرف جاؤ اور کہو خدایا! ہم میں جتنی طاقت تھی اُس کے مطابق ہم نے کام کیا ہے لیکن یہ کام ہماری طاقت سے بالا ہے اور ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔اب تو مدد کرے تو ہم اس کام کو کر سکتے ہیں۔پھر دیکھو گے کہ خدا تعالیٰ کس طرح تمہاری مدد کو آتا ہے۔یہ ایک نکتہ ہے جو ہمیں اذان سکھاتی ہے۔تم اس نکتے کو مشعلِ راہ بناؤ اور اس کے مطابق اپنی اصلاح کرو۔پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ کی مدد کیسے آتی ہے۔(الفضل 5 دسمبر 1951ء) 1 : قاز: ایک آبی پرندہ۔راج ہنس (فیروز اللغات اردو جامع فیروز سنز لا ہور ) 2 : النحل : 121