خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 175

$1951 175 خطبات محمود یہ کوئی بُری بات نہیں اُس نے بہر حال مرنا تھا بلکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ موت مرنے والے کے لیے آرام دہ ہے۔گولی لگی اور مر گیا۔اس طرح اُسے زیادہ تکلیف نہ ہوئی۔لیکن خاندانی اور قومی لحاظ سے اس میں کئی قباحتیں ہوتی ہیں۔ایک قباحت تو میں نے بتادی ہے کہ مرنے والے کو وصیت کا موقع نہیں ملتا اور اس طرح اُس کی اولاد، اُس کا خاندان اور اُس کی قوم اُس کے تجربات سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتی۔دوسری قباحت یہ ہوتی ہے کہ جب کوئی قومی خادم کسی انسان کے ہاتھوں مارا جاتا ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ قومی اخلاق میں بہت کچھ خرابی پیدا ہو چکی ہے کیونکہ کام کے تسلسل سے قوم ترقی کرتی ہے اور جب افراد میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ ہم آپ ہی آپ اپنا حق لے سکتے ہیں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تسلسل قائم نہیں رہ سکتا اور قوم حکومت پر اعتبار کرنے کی بجائے خود بدلہ لے لیتی ہے حالانکہ تسلسل حکومت سے قائم رہتا ہے۔اگر افراد میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ وہ اپنا بدلہ آپ لے سکتے ہیں تو اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ حکومت کو بریکار سمجھتے ہیں۔اگر یہ احساس کہ ہم اپنا بدلہ خود لے سکتے ہیں ساری قوم یا اُس کے اکثر افراد یا اس کے بعض افراد میں پیدا ہو جائے تو حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔وہ حکومت آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پرسوں ٹوٹ جائے گی اور اس کا نظام باقی نہیں رہے گا۔پس وہ واقعہ جو خان لیاقت علی خان کے ساتھ گزرا جہاں تک اُن کا اپنا سوال ہے یہ کوئی غیر معمولی چیز نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ وہ نسبتا آرام میں رہے کیونکہ اگر وہ کسی اور ذریعہ سے وفات پاتے تو دس پندرہ دن بیماری کی تکلیف اٹھاتے۔اب چونکہ وہ گولی لگنے سے یکدم مر گئے ہیں اس لیے یہ موت اُن کی ذات کے لیے آرام دہ ثابت ہوئی ہے۔لیکن قومی لحاظ سے یہ بہت خطرناک چیز ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ پاکستان کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے والوں میں نظام کی پابندی کا احساس باقی نہیں رہا۔مان لیا کہ قاتل کابل کا رہنے والا تھا لیکن وہ پاکستان میں آبسا تھا اور پاکستان کی قومیت کو اس نے قبول کر لیا تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قاتل کو کسی غیر قوم نے اس ذلیل فعل کے لیے اکسایا تھا لیکن ہم اسے غیر قوم کا فرد نہیں کہہ سکتے۔ہم سب باہر سے آئے ہیں۔اگر وہ پاکستانی نہیں تو مغل بھی پاکستانی نہیں مغل بھی باہر سے آئے ہیں، سید بھی پاکستانی نہیں کیونکہ وہ بھی مکہ اور مدینہ سے آئے ہیں۔اسی طرح پاکستان کی اکثر دوسری قو میں بھی باہر سے آئی ہیں۔کوئی ایران سے یہاں آبسان ہے، کوئی شام سے آیا ہے اور کوئی دوسرے ممالک سے آ کر اس ملک کی قومیت کو اختیار کر چکا ہے۔