خطبات محمود (جلد 32) — Page 156
$1951 156 خطبات محمود اہم کاموں پر لگایا اور ترکی حکومت میں انہیں داخل کرنا شروع کیا۔ترک سمجھتے تھے کہ سلطان عبدالحمید عربوں کو آگے لا کر ترکوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس لیے ان کی یہ پالیسی درست نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ سلطان عبد الحمید بہت اچھا آدمی تھا اور اُس کی ایک بات مجھے بہت اچھی لگتی ہے۔ایک جنگ کے متعلق جو شاید یونان والی جنگ تھی یا کوئی اور ان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ جب اُس کے آثار پیدا ہوئے تو سلطان عبدالحمید نے تمام وزراء اور بڑے افسروں کی ایک کانفرنس بلائی کہ اس صورتِ حالات میں ر کی حکومت کو دب کر صلح کر لینی چاہیے یا جنگ کرنی چاہیے۔ترکی کے بعض جرنیل یورپین حکومتوں کے خریدے ہوئے تھے، وہ جنگ نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن وہ یہ کہنے کے لیے بھی تیار نہیں تھے کہ ہم جنگ کے لیے تیار نہیں۔جب سلطان عبد الحمید نے اُن سے مشورہ طلب کیا تو انہوں نے کہا فلاں چیز بھی ٹھیک ہے، فلاں چیز بھی ٹھیک ہے لیکن فلاں خانہ خالی ہے۔اس طرح انہوں نے چاہا کہ وہ ملک اور بادشاہ کے سامنے نیک نام ہو جائیں کہ انہوں نے جنگ کے خلاف مشورہ نہیں دیا بلکہ سب حالات بتا کر سلطان عبدالحمید پر یہ بات چھوڑ دی ہے۔اصل مطلب یہ تھا کہ بعض کمزور پہلو دیکھ کر وہ خود ہی لڑائی نہ کرنے کا فیصلہ کرے۔سلطان عبدالحمید نے اُن کا مشورہ سن کر جواب دیا کہ سارے کام انسان ہی نہیں کرتا خدا تعالیٰ بھی کچھ کام کرتا ہے۔اگر آپ نے سب خانے پر کر دیئے ہیں اور صرف ایک خانہ خالی ہے تو وہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو اور جنگ لیے تیار ہو جاؤ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہایت گرے ہوئے زمانہ میں بھی مسلمان تو کل سے خالی نہیں تھے اور یہ واقعہ یونانی جنگ کا ہے اور غالباً یہ اسی سے متعلق ہے۔تو اس میں ترکوں کو اتنی شاندار فتح حاصل ہوئی کہ تمام یورپ حیران رہ گیا اور وہ ترکی حکومت میں دخل دینے سے کترانے لگا۔حقیقت یہی ہے کہ سارے کام بندے نہیں کرتے کچھ کام خدا تعالیٰ بھی کرتا ہے۔ہمارے اور دوسرے مذاہب کے درمیان یہی لڑائی ہے۔ہم کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ زندہ ہے اور وہ انسان کے کاموں میں اُسی طرح دخل دیتا ہے جیسے وہ پہلے دیا کرتا تھا۔ہم دیکھتے ہیں کہ جب انسان کی سب تدابیر نا کام ہو جاتی ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف رُخ کرتا ہے تو اسے باوجود ظاہری سامان نہ ہونے کے کامیابی حاصل ہو جاتی ہے۔نپولین نے کتنی تیاریاں کی تھیں، قیصر نے کتنی تیاریاں کی تھیں،