خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 127

$1951 127 خطبات محمود تو سوائے عورتوں کی طرح بیٹھنے اور بددعائیں دینے کے تم کر ہی کیا سکتے ہو؟ یا یہ کہ دس بارہ ہزار کی 3 تعداد میں جمع ہو کر چند نعرے مارلو گے کیا اس سے کام ختم ہو جائے گا؟ یا اگر احرار کے ٹائپ کے لوگ ہوں گے تو وہ احمد یوں کو گالیاں نکال لیں گے اور کہہ دیں گے ان کا بیڑا غرق ہو اور وہ سمجھ لیں گے کہ جونہی انہوں نے کہا کہ احمدیوں کا بیڑا غرق ہو اسلام عرش پر پہنچ جائے گا۔یہ سب لغو باتیں ہیں جن سے بچنا چاہیے۔اور میں دیکھتا ہوں کہ آجکل لوگ اپنے خون کے ساتھ دستخط کر رہے ہیں۔مجھے یہ خبریں سن کر ہنسی آجاتی ہے۔میں چند دن ہوئے اپنا خون ٹیسٹ کروانے کے لیے لاہور ہسپتال میں گیا تھا۔انہوں نے میری پانچوں انگلیوں سے اس قدر خون نکالا کہ اُس سے چالیس دستخط ہو سکتے تھے۔خون سے دستخط کرنے سے کیا انسان میں بہادری آ جاتی ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ ایک بیوقوف بادشاہ تھا۔اُس کے درباریوں نے اُسے مشورہ دیا کہ فوج پر اتنا خرچ ہورہا ہے اس کی کیا ضرورت ہے؟ انہیں فارغ کر دیا جائے۔جب لڑائی ہو گی قصائیوں کو بلا لیا جائے گا اور وہ اس کام کو سر انجام دیں گے۔بادشاہ نے خیال کیا کہ چلو یہی روپیہ عیاشی میں خرچ کرلوں گا۔اُس نے فوج کو توڑنے کے احکام صادر کر دیئے اور قصائیوں کو بلا کر انہیں حکم دیا کہ وہ ملکی دفاع کریں۔جب اردگرد کے بادشاہوں کو اس کی حماقت کا علم ہوا تو انہوں نے ملک پر فوج کشی کر دی۔بادشاہ نے تمام ملک کے قصائیوں کو حکم دیا کہ وہ دشمن کا مقابلہ کریں۔قصائی اپنی چھریاں تیز کر کے باہر نکلے۔وہ دودو، تین تین مل کر اور پینترے بدل کر ایک سپاہی کو پکڑتے اور اُس کو قبلہ رُخ لٹا کر بِسمِ اللهِ اللهُ اَكْبَر کہہ کر اُس کا گلا کاٹتے۔انہوں نے دس پندرہ آدمیوں کو ہی مارا ہوگا کہ دشمن نے اُن کے پندرہ بیس فیصدی آدمیوں کو قتل کر دیا۔یہ دیکھ کر وہ سب دوڑتے ہوئے دربار میں حاضر ہوئے اور فریاد! فریاد! فریاد! پکارنے لگے۔بادشاہ نے کہا کیا ہوا؟ انہوں نے کہا بادشاہ سلامت ! بالکل بے انصافی ہو رہی ہے۔ہم تو دو تین مل کر بڑی اُستادی کے ساتھ ایک سپاہی کو پکڑتے اور اُس کو قبلہ رُخ لٹا کر ذبح کرتے ہیں لیکن وہ بے قاعدہ ہمیں قتل کرتے ہی چلے جارہے ہیں۔اتنے میں دشمن کی فوج آگئی اور انہوں نے بادشاہ کو قید کرلیا۔غرض جو کام قاعدہ کے مطابق کیے جاتے ہیں وہی صحیح ہوتے ہیں۔نعرہ ہائے تکبیر بلند کرنے سے کام نہیں ہوتا اور نہ ہی خون کے ساتھ دستخط کرنے سے کسی جرأت کا اظہار ہوتا ہے