خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 92

$1951 92 خطبات محمود خطر ناک چیز ہے۔بہر حال اس چیز کی اصلاح ہو سکتی ہے۔یہ نہیں کہ پنجابی لوگ ان الفاظ کو ادا نہیں کہ سکتے۔پنجابی انہیں ادا کر سکتے ہیں۔لیکن بات یہ ہے کہ محکمہ کے افسر یو نہی کسی شخص کو کہہ دیتے ہیں کہ تم اذان دو۔پہلے اُس سے اذان سنتے نہیں تا کہ معلوم ہو جائے کہ اس میں کیا کیا نقائص ہیں۔بہر حال جو شخص فلاح کہ سکتا ہے اور وہ نہیں کہتا یا جوشخص فلاح فلاح کہنا سیکھ سکتا ہے لیکن وہ نہیں سیکھتا یا صلوة کہنا وہ سیکھ سکتا تھا لیکن وہ نہیں سیکھتا دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی بات مانی جائے یا نہ مانی جائے اس میں کوئی حرج نہیں۔اور یہ چیز نہایت خطرناک ہے۔فلاح کی جگہ فلاح کہ لینا بڑی بات نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ یوں کہو اور ہم کہ بھی سکتے ہیں لیکن کہتے نہیں۔مجھے یاد ہے میرے پاس ایک دفعہ ایک نوجوان آیا اور اُس نے میرے ساتھ بحث شروع کر دی کہ داڑھیوں میں کیا رکھا ہے، بال منڈوا لیے یا نہ منڈوائے اس کا محبت الہی ، دماغ کے تنوع اور ذہن کی روشنی کے ساتھ کیا مقصود ہے؟ میں نے اُسے کہا بال رکھنے یا نہ رکھنے کا بظاہر محبت الہی پر کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانے یا نہ ماننے کا ضرور اثر پڑتا ہے۔میں نے کہا میں جانتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کہی ہوئی بات ہے اور اس کا رد کرنا درست نہیں۔اسی طرح جب خدا تعالیٰ نے ان الفاظ کو ایک خاص زبان میں اُتارا ہے تو ضروری ہے کہ ہم انہیں اُس زبان میں اور پھر صحیح طور پر ادا کرنے کی کوشش کر یں خصوصاً جبکہ ہم انہیں صحیح طور پر ادا بھی کر سکتے ہیں۔لیکن اگر ہم انہیں صحیح طور پر ادا نہیں کرتے تو دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہتے ہیں کہ ان باتوں میں کیا رکھا ہے؟ کسی طرح کہ لیا۔اور اس طرح آہستہ آہستہ بڑی بڑی چیزوں کے ترک پر بھی انسان دلیر ہو جاتا ہے۔پس اسے چھوٹی چیز مت سمجھو۔بظاہر یہ ایک چھوٹی چیز ہے لیکن خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری چھوٹی چیز نہیں بلکہ بہت بڑی چیز ہے۔الفضل 28 مارچ 1962ء) 1 : صحیح بخاری كتاب الاذان باب اقامة الصف من تمام الصلوة :2 المغني لابن قدامة كتاب الصلاة باب الاذان من يقدم في الاذان و يلحن به۔جلد 1 صفحہ 430۔دارالفکر بیروت 1405ھ