خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 1 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 1

$1951 1 (1) خطبات محمود نئے سال میں اپنے کاموں میں نیا جوش پیدا کرو (فرموده 12 جنوری 1951ء بمقام ربوہ) تشہد، تعوّ ذاورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: دن آتے بھی ہیں اور جاتے بھی ہیں ، سال شروع بھی ہوتے ہیں اور ختم بھی ہوتے ہیں۔بظاہر تو یہ ایک معمولی اور ایک بے اثرسی چیز نظر آتی ہے۔ایک تسلسل ہے جس کی ابتدا کو دنیا کا کوئی انسان نہیں جانتا اور ایک تسلسل ہے جس کی انتہا کو دنیا کا کوئی انسان نہیں جانتا ، نہ آج سے دو ہزار سال قبل کے لوگ ہماری حالتوں سے واقف تھے اور نہ آج سے دو ہزار سال بعد کے لوگوں کے حالات سے ہم واقف ہیں بلکہ ہم ان لوگوں سے بھی كَمَا حَقَّهُ واقف نہیں جو آج سے دو ہزار سال قبل گزر چکے ہیں اور جن میں سے بعض کے واقعات زندگی تاریخ میں محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم اس زمانہ کے تمام لوگوں کو بھی نہیں جانتے۔بلکہ اس زمانہ کے لوگ تو الگ رہے امریکہ، یورپ، چین اور جزائر کے رہنے والے تو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں ہم اپنے ملک کے رہنے والوں کو بھی نہیں جانتے بلکہ ملک کے رہنے والوں کا بھی سوال نہیں ہم اپنے شہر کے رہنے والوں کو بھی نہیں جانتے ، ہم اپنے محلہ کے رہنے والوں کو بھی نہیں جانتے ، ہم اپنے گھر کے لوگوں کو بھی نہیں جانتے۔بلکہ کوئی سمجھے یا نہ سمجھے حقیقت یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو نہیں جانتا اور بیوی اپنے خاوند کو نہیں جانتی۔اگر ایسا نہ ہوتا