خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 87

$1951 87 خطبات محمود کتنی دُور ہے لیکن تم یہ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ ایک رسول اور ایک مولوی میں کیا فرق ہے۔یہ کیوں ہوا؟ یا یہ اسی لیے ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَا اسْتَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ - 2 میں قرآن کریم کے بدلہ میں تم سے کچھ نہیں مانگتا۔لیکن ایک مولوی کہتا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھاؤں گا،حدیث سناؤں گا لیکن تم مجھے دو گے کیا ؟ غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ایک مولوی میں یہ فرق ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پڑھانے کے بدلہ میں کچھ نہیں مانگا لیکن مولوی اس کے نی بدلہ میں اپنے گزارے کے لیے کچھ مانگتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متبعین میں سے کوئی موسیٰ کا مثیل ہوا، کوئی عیسی کا مثیل ہوا، کوئی داؤڈ کا مثیل ہوا اور کوئی سلیمان کا مثیل ہوا۔آپ کے سب صحابہ شستارے تھے جو دنیا کے لیے راہ نمائی کا موجب بنے۔لیکن عام علماء میں سے وہ لوگ بھی ہیں جن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا کے پردے پر اگر کوئی ذلیل ترین وجود دیکھنا ہو تو وہ انہیں دیکھ لے۔گویا ایک کے متبعین میں سے ادنیٰ سے ادنی افراد بھی ستارے ہیں اور ایک کے ساتھیوں میں سے وہ وجود بھی ہیں جو دنیا کے پردے پر ذلیل ترین سمجھے جاتے ہیں۔یہ فرق صرف روحانیت کا ہے۔پس تم خدا کے لیے ہو جاؤ۔خدا تعالیٰ یہ نہیں کہتا کہ تم کھانا نہ کھاؤ، پانی نہ پیو، کپڑا نہ پہنو اور مکان میں نہ رہو بلکہ وہ کہتا ہے کہ تم میرے پاس آجاؤ میں تمہیں یہ سب چیزیں دوں گا۔ہاں ! تم نیت کرلو یہ چیزیں ملتی ہیں تو ملیں نہیں ملتی تو نہ ملیں۔ہم نے کبھی کوئی ایسا نبی نہیں سنا جسے پہنے کے لیے کپڑے میسر نہ ہوں۔انہیں بھی بہر حال کپڑے میسر آ جاتے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ جیسے کپڑے مل جائیں مل جائیں لیکن پہنتے ضرور ہیں۔اور کپڑے ایک مولوی ، ایک عام دنیا دار مسلمان اور ایک عیسائی بھی پہنتا ہے۔ان میں یہی فرق ہے کہ ایک نے اللہ تعالیٰ کو مقدم رکھا اور دنیا کو مؤ تحر اور دوسرے نے مقدم رکھا اور خدا کو مؤخر اور یہی تھوڑا سا فرق ہے جس کی وجہ سے ایک رسول بن گیا اور ایک دنیا دار مولوی بن گیا۔غرض روحانیت کے لیے ارادہ اور نیت کی ضرورت ہے۔تم خدا تعالیٰ کو اپنے تمام امور میں مقدم کر لو تمہیں روحانیت مل جائے گی۔اور روحانیت والا گھوڑے کو آگے باندھتا ہے اور گاڑی کو ہے۔لیکن ایک دنیا دار گاڑی کو آگے باندھتا ہے اور گھوڑے کو پیچھے۔کہنے کو تو یہ ایک معمولی سی بات