خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 45

$1951 45 خطبات محمود تو غیرت اس کی شرم و حیا اور پردہ پر غالب آ گئی۔اُس نے بال بکھیر لیے اور پیٹھ پر ایک چار پائی اُٹھاتی لی اور ننگے سر اور ننگے منہ پاگلوں کی طرح باتیں کرتے ہوئے ہندوؤں کے محلہ سے جس میں اُن کی رہائش تھی ہوتی ہوئی احمدی محلہ کی طرف اس نے رُخ کر لیا۔کبھی وہ اوٹ پٹانگ شعر پڑھتی اور کبھی ئین کرتی ہوئی کہتی ہائے ! لڑکی کذاتاں نوں دے دتی۔اسی طرح شور کرتی ہوئی وہ گول کمرہ کے پاس جہاں میرا دفتر تھا پہنچی۔بعض دوستوں نے مجھے اطلاع دی کہ فلاں عورت پاگل ہوگئی ہے۔وہ بال کھولے، ننگے سر اور ننگے منہ پیٹھ پر چار پائی اٹھائے گلیوں میں پھر رہی ہے اور شور مچارہی ہے۔میں نے کہا وہ پاگل نہیں بلکہ مجھے ڈرا رہی ہے۔چنانچہ میں نے باہر نکل کر اُس عورت سے کہا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ولی نہیں بنایا ولی لڑکی کے باپ کو بنایا ہے جو اس رشتہ میں راضی ہے اور وہ اسے اچھا سمجھتا ہے تو بیشک شور مچا اور گلیوں میں پاگلوں کی طرح پھر لیکن یہ رشتہ رک نہیں سکتا۔اس کے بعد میں نے ایک دو احمدیوں سے کہا کہ اسے اپنے ساتھ لے جاؤ اور احمدی محلوں میں پھراؤ۔جب اسے پتا لگا کہ یہ ڈریں گے نہیں اور لڑکی کا رشتہ ہو کر رہے گا تو یا تو اُس نے سر ننگا کیا ہوا تھا اور بال کھولے ہوئے تھے اور پیٹھ پر چار پائی اٹھائے ہوئے تھی اور یا پھر اس نے چارپائی نیچے رکھی ، منہ پر کپڑا لیا اور نہایت اطمینان - اپنے گھر واپس چلی گئی۔اب دیکھو! پیشہ کے لحاظ سے لڑکا زیادہ کمانے والا تھا اور لڑکی کا باپ کم کمائی کرنے والا تھا اور پھر وہ بالکل نکتا تھا۔گویا قومی لحاظ سے بھی وہ ایک درزی سے کم تھا اور پیشے کی کمائی کے لحاظ سے بھی ایک دُھنیا کی کمائی درزی سے کم ہوتی ہے لیکن چونکہ کچھ مدت سے اُن میں دُھنیے کا پیشہ چل پڑا تھا اس لیے وہ سمجھتے تھے کہ ہماری لڑکی کذات درزی سے بیاہی جارہی ہے۔غرض کسی قوم میں جو روایات چل پڑتی ہیں اگر چہ بعض اوقات انہیں عقل تسلیم نہیں کرتی لیکن پھر بھی اس کے افراد ان پر بڑی سختی سے عمل کرتے ہیں۔اور اگر بدقسمتی سے بد روایات چل پڑیں تو ان کا بداثر نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔ابتدائی حالتوں میں جب قو میں بنتی ہیں اور جب ان کے اندر یہ جذبہ پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے لیے ایک مستقل رستہ ، اعلیٰ روایات اور شاندار مستقبل تیار کریں اُس وقت اگر اُن کا قدم غلط طرف اٹھ جائے تو غلط روایات ان کے لیے لعنت بن جاتی ہیں اور ان سے نکلنا اُن کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔پس قوم کے ابتدائی دور میں بہ نسبت اس دوسرے دور کے جس میں روایات قائم ہو