خطبات محمود (جلد 32) — Page 21
$1951 21 خطبات محمود یہ کہے کہ انجیل میں یوں لکھا ہے یا تو رات میں یوں آتا ہے تو لوگوں پر اس کا کیا اثر ہو گا ؟ وہ یہی کہیں گے کہ ہم تو انجیل اور تو رات کو مانتے ہی نہیں ہمارے سامنے ان باتوں کے بیان کرنے کا فائدہ کیا ہے؟ ہندوؤں میں وہی شخص کامیاب ہو سکتا ہے جو ہندو مذہب کے لٹریچر اور ویدوں کے حوالہ جات کو پیش کر کے بات کرے۔اور مسلمانوں میں وہی شخص مقبول ہو سکتا ہے جو قرآن کریم اور حدیث سے مسائل بیان کرے۔اور بدھوں میں وہی شخص مقبول ہو سکتا ہے جو بدھ مذہب کے لٹریچر سے اپنی باتیں نکال کر پیش کرے۔پس کمیونزم کے مقابلہ کی صرف یہی صورت ہو سکتی ہے کہ عیسائی بھی ، ہندو بھی اور مسلمان بھی اور بدھ بھی اور زرتشتی بھی سب کے سب جمع ہو جائیں اورمل کر کمیونزم کا مقابلہ کریں۔اگر تمام مذاہب کے ماننے والے جمع ہو جائیں اور اپنے اپنے عقائد کے مطابق اپنے ہم خیال لوگوں کو مخاطب کریں مانی تو یقیناً ہندو بھی سنے گا اور عیسائی بھی سنے گا اور مسلمان بھی سنے گا اور بدھ بھی سنے گا کیونکہ وہاں سیاست کا کوئی سوال نہیں ہوگا۔وہاں ہر شخص یہی کہے گا کہ ہمارا مذ ہب ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے اور کمیونزم اس کے خلاف ہے۔دوسری طرف اس کے نتیجہ میں کمیونزم کو بھی اپنے حملہ کا رُخ بدلنا پڑے گا۔اب تو کمیونزم یہ کہتی ہے کہ ہم صرف سیاست کے خلاف ہیں۔وہ ہے تو مذہب کے خلاف بھی مگر وہ اس کا ذکر نہیں کرتی۔جھتی ہے کہ جب حکومت ہمارے ہاتھ میں آ جائے گی تو مذہب کو خود بخود مٹا ڈالیں گے فی الحال حکومتوں کو توڑنا ہمارا کام ہے۔مثلاً وہ سمجھتے ہیں کہ سر دست ہم نے خدانخواستہ پاکستان کی حکومت کو توڑنا ہے، ہم نے ہندوستان کی حکومت کو توڑنا ہے۔ہم نے افغانستان کی حکومت کو توڑنا ہے، ہم نے یورپین حکومتوں کو تو ڑنا ہے، چین کی حکومت کو تو وہ تو ڑ ہی چکے ہیں۔جب تمام حکومتیں ٹوٹ گئیں تو مذہب کے لیے کوئی جگہ نہیں رہے گی کیونکہ جہاں اُن کا غلبہ ہوا وہاں نہ کوئی مذہب کا نام لے سکے گا نہ اُس پر عمل کر سکے گا اور نہ اُس کی اشاعت کے لیے کوئی کوشش کر سکے گا۔یہ سکیم ہے جس کے ماتحت کمیونزم اپنے کام کو وسیع کرتا چلا جارہا ہے۔مگر مذہبی لوگ خاموش بیٹھے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا اس سے کیا واسطہ، کمیونسٹ تو صرف سیاست کے خلاف ہیں۔اُن کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص دیکھے کہ ایک دشمن کسی بچے کو مار رہا ہے تو وہ اس خیال سے خاموش بیٹھا رہے کہ یہ کسی اور کا بچہ ہے