خطبات محمود (جلد 32) — Page 257
$1951 257 خطبات محمود سے پروٹسٹ کیا جائے یا ملاقات کی جائے تو وہ ہمارا ادب بھی کرتے ہیں ، لحاظ بھی کرتے ہیں، جواب بھی دیتے ہیں اور خوش کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہاں ہماری دیر سے مسجد موجود ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ان لوگوں کا یہاں ڈیرہ قائم ہو چکا ہے لیکن جہاں یہ ڈیرے قائم نہیں وہاں بڑی دقتیں پیش آتی ہیں۔پس جہاں جہاں ہم مشن کھولنا چاہتے ہیں ضروری ہے کہ وہاں کم از کم کسی ایک شہر میں جو مرکزی حیثیت رکھتا ہو ہمارا اپنا مکان ہو۔لیکن یورپین ملکوں میں ایک ایک مکان کے لیے لاکھوں روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔مثلاً ابھی ہم نے واشنگٹن میں مرکز کے لیے ایک مکان خریدا ہے جس پر بیالیس ہزار ڈالر خرچ آیا ہے۔بیالیس ہزار ڈالر کے معنے ہیں ایک لاکھ پینتالیس ہزار روپیہ۔اور یہ روپیہ صرف مکان خرید نے پر خرچ ہوا ہے۔اگر ہم مسجد بنا ئیں تو قریب ستر ، اسی ہزار روپیہ اور خرچ ہوگا مگر جماعت کے چندہ کی یہ حالت ہے کہ دوستوں میں ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی تحریک کی گئی تو آیا صرف چالیس ہزار ، باقی روپیہ ادھر ادھر سے قرض لے کر پورا کیا گیا ہے۔بعض قرض دینے والوں سے تو ہم شرمندہ بھی ہیں اور ایک دوست سے صرف چھ ماہ کے وعدے پر قرض لیا گیا تھا مگر وقت گزر گیا اور رو پیدا دا نہ ہو سکا۔انہیں بھی ضرورت تھی۔آخر انجمن نے مجھے لکھا کہ اگر آپ اجازت دیں تو ہم وہی مکان گرو رکھ کر اُن کا روپیہ ادا کر دیں؟ میں نے کہا کہ بیشک مکان گرو رکھ دو اور اُن کا روپیہ ادا کر دو۔اب یہ ہے تو بڑے شرم کی بات کہ جو مکان مسجد کے لیے خریدا گیا تھا اس کو گرو رکھنے کی اجازت دے دی جائے مگر یہ صورتِ حالات اس لیے پیدا ہوئی کہ اتنے اہم کام کی طرف جماعت نے اتنی کم توجہ کی کہ ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی تحریک کی گئی اور چندہ چالیس ہزار روپیہ آیا۔ہالینڈ کی مسجد کے متعلق عورتوں میں تحریک کی گئی تھی انہوں نے مردوں سے زیادہ قربانی کا ثبوت دیا ہے۔گوان کی تحریک بھی چھوٹی تھی۔عورت کی آمدن ہمارے ملک میں تو کوئی ہوتی ہی نہیں۔اگر اسلامی قانون کو دیکھا جائے تو عورت کی آمد مرد سے آدھی ہی چاہیے کیونکہ شریعت نے عورت کے لیے آدھا حصہ مقرر کیا ہے اور مرد کے لیے پورا حصہ۔پس اگر مردوں نے چالیس ہزار روپیہ دیا تھا تو چاہیے تھا کہ عورتیں ہیں ہزار روپیہ دیتیں مگر واقعہ یہ ہے کہ مردوں نے اگر ایک روپیہ چندہ دیا ہے تو عورتوں نے سوا روپے کے قریب دیا ہے۔انہوں نے زمین کی قیمت ادا کر دی ہے اور ابھی