خطبات محمود (جلد 32) — Page 256
$1951 256 خطبات محمود ضروری ہے میں نے خلافت جو بلی فنڈ سے روپیہ نکالنے کی اجازت دے دی تھی۔جب تحریک یہ روپیہ واپس کرے گی تو پھر خلافت جو بلی فنڈ قائم ہو جائے گا۔بہر حال اکیس لاکھ کے قریب تو یہ ہوا اور سات آٹھ لاکھ روپیہ وہ ہے جو ان زمینوں کی آمد سے ادا ہوا۔اس وقت اس زمین کی اوسط قیمت تین سو روپیہ فی ایکڑ مجھنی چاہیے۔یہاں تو فی ایکڑ ایک ہزار روپیہ سے دو ہزار روپیہ تک بھی قیمت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قیمت مل جاتی ہے۔اگر وہاں بھی کسی وقت یہی قیمت ہو جائے تو ایک ہزار روپیہ فی ایکڑ کے لحاظ سے ایک کروڑ اور دو ہزار روپیہ فی ایکڑ کے لحاظ سے دو کروڑ روپیہ کی وہ جائداد بن جاتی ہے اور اس طرح تحریک جدیدکا دو کروڑ روپیہ کاریز رو فنڈ قائم ہو جاتا ہے۔لیکن سر دست ہم اس کا صیح انتظام نہیں چلا سکے۔بعض سالوں میں ہمیں قرض لے کر کام کرنا پڑا ہے۔اس سال بھی پچیس ہزار روپیہ ای قرض لیا گیا ہے لیکن بعض سالوں میں آمد بھی ہوئی ہے جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ چھ سات لاکھ روپیہ کی اس کی آمد میں سے خرچ کیا گیا ہے۔بہر حال اگر یہ زمین صحیح طور پر آمد دینے لگ جائے اور قرض ادا ہونے کے بعد اس سے ایک ریز رو فنڈ قائم ہو جائے تو خطرہ کے موقع پر ہمیں اس طرح اعلان نہ کرنا پڑے جس طرح مجھے گزشتہ سال اخباروں میں بار بار اعلان کرنا پڑا کہ دوستوں کو جلدی اپنے وعدے ادا کرنے چاہیں ورنہ سلسلہ کے کاموں میں تعطل واقع ہو جائے گا۔ایسی صورت میں آسانی سے لاکھ دو لاکھ روپیہ وہاں سے لیا جا سکتا ہے اور سلسلہ کے کاموں میں کوئی حرج واقع نہیں ہو سکتا لیکن ابھی وہ وقت نہیں آیا۔کامیابی کے آثار نظر آ رہے ہیں اور کام پہلے سے بہتر ہوتا جا رہا ہے لیکن ابھی بہت کچھ اصلاح کی ضرورت ہے۔مگر یہی کام کافی نہیں۔بڑی چیز یہ ہے کہ جہاں جہاں ہم اپنے مشن قائم کریں وہاں ہمارا اپنا مکان اور اپنی مسجد بھی ہو اس کے بغیر کبھی بھی صحیح طور پر کام نہیں ہوسکتا۔اب ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے ایک مشنری نے کوئی مکان کرایہ پر لیا ہوا ہوتا ہے مگر کچھ عرصہ کے بعد اسے نوٹس مل جاتا ہے کہ مکان خالی کرو۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُس مکان کو روشناس کرنے میں جو وقت اور روپیہ صرف ہو چکا ہوتا ہے وہ سارے کا سارا ضائع چلا جاتا ہے اور پھر وہ مبلغ کسی اور مکان میں چلا جاتا ہے جس کی طرف لوگوں کو کوئی توجہ نہیں ہوتی۔تبلیغ کا کام صحیح طور پر بھی چل سکتا ہے جب اپنی جگہ ہو۔انگلستان میں اگر چہ دین کی طرف رغبت لوگوں کو کم ہے لیکن چونکہ ہمارا وہاں اپنا مکان ہے اور اپنی مسجد ہے اور دیر سے مشن قائم ہے اس لیے ہمارا وہاں کافی رسوخ ہے ، وزراء تک وہاں آتے ہیں۔اور اگر کسی معاملہ میں اُن