خطبات محمود (جلد 32) — Page 213
$1951 213 خطبات محمود وصولی کی رفتار سے زیادہ ہے۔اور دفتر دوم کے ساتویں سال کے وعدوں کی وصولی کی رفتار چھٹے سال کے وعدوں کی وصولی کی رفتار سے زیادہ ہے اور فیصدی کے لحاظ سے تو یہ فرق اور بھی بڑھ جاتا ہے۔گزشتہ سال کی وصولی اِس وقت تک پچپن فیصدی تھی لیکن اس سال کی وصولی 83 فیصدی ہے۔دوسرے دور کے متعلق مجھے پوری معلومات حاصل نہیں ہوسکیں مگر غالبا اس سال کی وصولی چوہتر ، پچھتر فیصدی کے قریب ہے جبکہ گزشتہ سال کی وصولی پچاس فیصدی کے قریب تھی۔بہر حال فیصدی وصولی کے لحاظ سے اس سال جماعت کی قربانی پچھلے سال سے زیادہ رہی ہے۔پہلے دور کی بھی اور دوسرے دور کی بھی۔فَجَزَاكُمُ اللهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ لیکن پہلے دور کے متعلق ایک بات افسوسناک بھی نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ اس کے وعدے پچھلے تین سالوں سے متواتر نیچے گرتے چلے گئے ہیں۔چودھویں سال میں دو لاکھ تر اسی ہزار کے وعدے تھے حالانکہ چودھواں سال سخت تباہی کا سال تھا۔اس میں ملک کے دو ٹکڑے ہو چکے تھے، بہت لوگ اپنی جائدادوں سے محروم ہو گئے تھے اور آئندہ کے متعلق انہیں کوئی امید نہیں رہی تھی۔گواب اکثروں نے یہاں آ کر اپنی جائیدادیں بنالی ہیں بلکہ بینوں کے لیے ملک کی یہ تقسیم بابرکت ہوگئی ہے۔وہ لوگ جن کی وہاں صرف دو دو، چار چار کنال زمین تھی یہاں آ کر اُن کو سات سات، آٹھ آٹھ گھماؤں 2ے زمین مل گئی ہے۔لیکن وہ لوگ جن کی وہاں زیادہ زمینیں تھیں اُن کو یہاں کم زمینیں ملی ہیں۔بہر حال چودھواں سال وہ سال ہے جو ہماری جماعت کے لیے ایک نازک ترین سال تھا۔اُس وقت کم جائدادوں کے باوجود، کم سامانوں کے باوجود، کم آمد نیوں کے باوجود جماعت نے دولاکھ تر اسی ہزار کے وعدے کیے تھے لیکن اگلے سال جماعت کے وعدے اس سے کم ہو گئے یعنی پندرھویں سال میں جماعت کے وعدے دولاکھ پچھتر ہزار ہو گئے۔سولھویں سال میں آکر کوئی دو لاکھ ستر ہزار کے قریب ہو گئے اور سترھویں سال میں آکر وہ دولاکھ تریسٹھ ہزار ہو گئے۔گویا جو اصل مصیبت کا وقت تھا اُس وقت جماعت نے وعدوں کے لحاظ سے اپنی قربانی کو تیز کر دیا لیکن جب وقفہ بڑھتا چلا گیا تو بعض لوگ اپنے ایمان کے معیار کو اس حد تک قائم نہ رکھ سکے جس حد تک خوف اور مصیبت کے زمانہ میں انہوں نے اپنے ایمان کو قائم رکھا تھا۔یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ یہ زیادتی در حقیقت اُن لوگوں کی طرف سے تھی جو تقسیم کی ضرب سے محفوظ رہے۔چونکہ تازہ بتازہ انہوں نے یہ بات دیکھی تھی کہ اُن کے بھائی اپنی جائدادوں سے بے دخل کر دیئے گئے،