خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 170

$1951 170 خطبات محمود تاریخیں یہی کہتی ہیں کہ زار کی طاقت 1901ء سے بڑھنی شروع ہو گئی تھی اور اس قسم کے حالات پیدا ہو گئے تھے کہ یورپین طاقتیں اس کی وجہ سے خطرہ میں پڑ گئی تھیں۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی باحال زار اور پھر زار کا جو حالِ زار ہوا وہ دنیا سے پوشیدہ نہیں۔پس واقعات بتاتے ہیں کہ دنیا کی طاقتیں کچھ چیز نہیں اصل چیز خدا تعالیٰ کی مدد اور نصر ہے اور اُس کی مدد اور نصرت دعاؤں اور ذکر الہی سے ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔لیکن افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے نوجوانوں کی اس طرف کم توجہ ہے۔لیکن میں یہ نہیں کہتا کہ تم دنیوی کام چھوڑ دو اور صرف ذکر الہی اور دعاؤں میں لگ جاؤ۔میں یہ کہتا ہوں کہ تم دنیوی کام بیشک کرو لیکن تمہارا اصل مقصد خدا تعالیٰ کی ذات ہونی چاہیے اور دعا ئیں اور ذکر الہی تمہارا اصل کام ہونا چاہیے۔جو شخص دعائیں کرتا اور ذکر الہی سے کام لیتا ہے اس کی قوت عملیہ میں اضافہ ہو جاتا ہے اور وہ دوسروں سے زیادہ کام کرتا ہے۔دنیا میں بعض ایسے کمانڈر بھی گزرے ہیں جنہوں نے لیٹ کر کمانیں کی ہیں اور پنے دشمن پر غالب ہوئے ہیں کیونکہ گوان کے ہاتھ پاؤں نہیں ملتے تھے مگر قوت عملیہ اُن کے اندر موجود تھی اور کامیابی کے لیے اسی قوت کی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔یہ مت خیال کرو کہ جو شخص ذکر الہی اور دعاؤں کا عادی ہوتا ہے وہ دنیوی کاموں میں سُست ہو جاتا ہے۔وہ سُست نہیں ہوتا بلکہ دوسروں سے زیادہ پست ہوتا ہے اور اس کی طاقت بڑھ جاتی ہے کیونکہ آسمانی انوار سے اُس کی تائید ہورہی ہوتی ہے۔مجھے اپنے بچپن کی ایک بیوقوفی پر ہنسی آتی ہے۔جب میری عمر گیارہ بارہ سال کی تھی اُس وقت میری یہ کیفیت تھی کہ جب کوئی شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کوئی سوال پوچھتا تو میرا دل دھڑ کنے لگتا کہ نہ معلوم آپ اُس کے سوال کا جواب بھی دے سکتے ہیں یا نہیں۔لیکن جب آپ اُس کے سوال کا جواب دیتے تو یوں معلوم ہوتا کہ آسمان سے نور نازل ہو رہا ہے اور علوم کا ایک دریا بہہ رہا ہے۔بہت دفعہ ایسا ہوتا کہ حضرت خلیفہ اول بھی بے اختیار کہ اٹھتے کہ سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مجھے یاد ہے حضرت خلیفتہ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے جب آتھم سے مباحثہ ہوا اور وہ لمبا