خطبات محمود (جلد 32) — Page 151
$1951 151 خطبات محمود احمدی ہوتا ہے۔اس کے اندر یہ جذبہ اتنا مضبوط نہیں ہوتا جتنا ایک خود بیعت کرنے والے کے اندر ہوتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اولاد کی تربیت ناقص ہوتی جاتی ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ حضرت حسن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے۔انہیں ترکاری پسند آئی تو پلیٹ میں ہاتھ مارا تا اس کے ٹکڑے تلاش کر کے کھائیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا كُلْ بِيَمِينِكَ وَمِمَّا يَلِیكَ 1 کہ دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور وہاں سے کھاؤ جو تمہارے سامنے ہے۔یہ تہذیب کا سبق ہے جو آپ نے بچہ کو سکھایا کہ کہاں سے کھانا ہے اور کس طرح کھانا ہے۔لیکن آجکل کی ماؤں کو یہ احساس بھی نہیں ہوتا اور بجائے سمجھانے کے انہیں پیار کرنے لگ جاتی ہیں۔ایک دفعہ صدقات کی کھجوریں آئیں تو حضرت حسنؓ نے ڈھیر میں سے ایک کھجور لی اور منہ میں ڈال لی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھ لیا اور فرمایا نہیں نہیں ! یہ کھجور میں صدقہ کی ہیں۔پھر آپ نے حضرت حسنؓ کے منہ میں انگلی ڈال کر وہ کھجور نکال لی۔لیکن آجکل کی مائیں ایسے موقع کی پر کہ دیتی ہیں کہ بچہ بچارہ کم سمجھ ہے بلکہ اگر وہ رو پڑے تو خودا سے کہیں گی کہ اچھا کھالے کھالے۔پس بچوں کی تربیت نہایت اہم چیز ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ربوہ پر جہاں بہت سی ذمہ داریاں ہیں وہاں بچوں کی تربیت کے متعلق بھی اس پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔لیکن افسوس ہے کہ بچوں کی تربیت کی طرف بہت کم توجہ کی جاتی ہے۔قادیان میں بھی یہ نقص تھا اور میں نے اس کو دور کرنے کی کوشش کی تھی۔لیکن وہاں یہ نقص زیادہ نہیں تھا یہاں تو یہ حالت ہے کہ والدین اپنے بچوں کو خلافت کی اہمیت بھی نہیں بتاتے۔چنانچہ بعض بچے جب میرے پاس آتے ہیں تو میں نے دیکھا ہے کہ وہ السَّلامُ عَلَيْكُمُ کہنے کی بجائے اس قسم کے الفاظ اپنی زبان سے نکال دیتے ہیں کہ با باجی سلام۔اس کے معنی یہ ہیں کہ انہیں پتا ہی نہیں کہ اُن کا خلیفہ وقت کے ساتھ کیا رشتہ ہے اور اسے کن الفاظ میں مخاطب کرنا چاہیے۔اگر والدین نے انہیں خلافت کے مقام کی اہمیت بتائی ہوتی تو وہ آداب اسلامی سے اس قدر بیگانہ نہ ہوتے۔میں سمجھتا ہوں یہ ماں باپ کا ہی قصور ہے کہ انہیں یہ بتایا ہی نہیں گیا کہ خلیفہ کا رشتہ ماں باپ اور استاد کے رشتہ سے بھی زیادہ اہم ہے اور ان کا فرض ہے کہ اسے ان سب سے زیادہ عزت کا مقام دیں۔اسی طرح ابھی ایک بچہ لاہور سے آیا ہے۔اُس کی عمر سات آٹھ سال کی ہے۔اُس سے باتیں کرنے پر معلوم ہوا کہ اُسے اتنا بھی والدین نے نہیں سمجھایا کہ اُس کا