خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 62

$1951 62 خطبات محمود اور جانتے نہیں کہ وہ گر موجود ہے لیکن تم اس سے کام نہیں لیتے۔خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کے وہی گر ہیں جن سے تمہارے دلوں میں ماں باپ، بیوی بچے اور بہن بھائیوں کی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کا قرب اور اس کی محبت حاصل کرنے کے لیے خدا تعالیٰ نے آسان آسان چیزیں سکھائی ہیں۔مثلاً یہ بات بھی اسلام نے سکھائی ہے کہ جب تم کھانا کھا چکو تو الحَمْدُ لِلهِ کہا کرو اور دوسری دفعہ خدا تعالیٰ کو یاد کر لیا کرو۔جس طرح دنیا میں کوئی آدمی کسی دوسرے کو کھانا کھلائے تو کھانے سے فارغ ہو کر وہ کہتا ہے شکریہ۔اسی طرح جب انسان کھانا کھا لیتا ہے تو وہ الْحَمْدُ لِلَّهِ کہتا ہے۔گویا الْحَمْدُ لِلهِ کہنا خدا تعالیٰ کے احسان کا دوسری بار شکریہ ادا کرنا ہے۔اگر کوئی انسان اس پر مداومت اختیار کرے تو آپ ہی آپ اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہو جائے گی لیکن افسوس کہ ہم ان راستوں کو اختیار نہیں کرتے۔خدام الاحمدیہ کو خاص طور پر ان باتوں کی عادت ڈالنی چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ بچوں کو ابھی سے ان باتوں کی عادت ڈالی جائے۔کسی زمانہ میں عیسائیوں میں یہ ہوتا تھا کہ ہر خاندان میں کھانا تی کھانے سے پہلے گریس 4(GRACE) کرتے تھے۔جب خاندان کے تمام افراد کھانا کھانے لگتے تو ماں باپ دعائیہ فقرے کہتے۔میرے دل میں کئی دفعہ خیال آیا ہے کہ اگر گھر کا بڑا آدمی روزانہ اسی طرح دعا کر لیا کرے تو گھر کے تمام افراد کو آپ ہی آپ یہ خیال پیدا ہو جائے گا کہ یہ کھانا ہمیں خدا تعالیٰ نے دیا ہے۔غرض جس طریق سے ماں باپ کی محبت پیدا ہوتی ہے اُسی طریق سے خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہوتی ہے۔ان ذرائع کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہیے۔بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن ان کو اختیار کرنے سے انسان بڑے بڑے فوائد حاصل کر لیتا ہے۔مثل مشہور ہے کہ کسی شخص کا ایک بھتیجا تھا۔اس نے اپنے بھتیجے سے کہا کہ اگر تم ہمارے گھر آؤ تو میں تمہیں اتنا بڑا لڈو کھلاؤں گا جس کے بنانے میں کئی ہزار لوگوں نے ہاتھ لگایا ہو گا۔وہ لڑکا اپنے ماں باپ کے پیچھے پڑا کہ مجھے میرے چچا کے ہاں بھیجو۔اُس کا خیال تھا کہ وہ لڈو عجیب قسم کا ہوگا جس کو کوئی ہزار لوگوں نے مل کر بنایا ہوگا۔آخر وہ چا کے پاس گیا۔اس نے اپنے حسب وعدہ ایک لڈولا کر دیا۔وہ عام لڈوؤں کی طرح معمولی قسم کا تھا جو اس لڑکے نے ای کئی دفعہ دیکھا تھا اور کھایا بھی تھا۔اس نے کہا کیا یہ وہی لڈو ہے جس کے کھلانے کا آپ نے