خطبات محمود (جلد 32) — Page 56
$1951 8 56 99 خدا تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کے گر (فرمودہ 30 مارچ 1951ء بمقام ربوہ) تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ”مذہب کی بنیاد یا یوں کہو کہ مذہب کے عملی حصہ کی بنیاد محبت الہی پر ہے جسے عام اصطلاح میں تعلق باللہ کہتے ہیں۔علق“ کے معنے چمٹ جانے کے ہیں اور چمٹنے والی چیز کو علقہ کہتے ہیں۔گویا تعلق باللہ کے یہ معنے ہوں گے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ چمٹ جائے۔علاقہ“ کا لفظ بھی اسی قسم کا ہے۔” مجھے اس سے علاقہ نہیں“ کے معنے ہوتے ہیں مجھے اس کے ساتھ کوئی لگاؤ نہیں یا مجھے اس کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں۔تو مذہب کی بنیاد تعلق باللہ پر ہے اور محبت الہی پر ہے۔اور مذہب کے تمام حصص اسی قسم کے ہیں جنہیں بندہ اور خدا تعالیٰ میں محبت پیدا کرنے کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔لیکن بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ہر ایک انسان کی پہنچ میں نہیں ہوتیں اور بعض چیزیں ہر انسان کی پہنچ میں ہوتی ہیں۔خدا تعالیٰ کے باریک در بار یک فیوض اور مخفی در مخفی فیضان پر ہر انسان کی پہنچ نہیں ہوتی۔بہت سے لوگ تو ان کو جانتے ہی نہیں اور بہت سے لوگ جان کر ان کو پہچاننے کے قابل نہیں ہوتے۔پس جو چیز میں عام لوگوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں وہی تمام بنی نوع انسان کے کام آ سکتی ہیں لیکن تعجب کی بات ہے کہ لوگ بالعموم ان چیزوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور قریب ترین سامان جو ان کی نجات اور خطبات محمود