خطبات محمود (جلد 32) — Page 261
$1951 261 خطبات محمود ایک گاہک بیٹھا تھا۔وہ دکاندار اُس سے لمبی بحث میں لگا ہوا تھا۔مجھے طبعا یہ بُرا محسوس ہوا۔اُس کی دکاندار نے مجھے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ہمارے ہاں صرف ایک قیمت ہوتی ہے۔آپ اپنی مستورات کو سمجھا دیں کہ وہ قیمت کے بارہ میں کوئی تردد نہ کریں۔اُس دوسرے شخص نے کی ایک سو دس روپے کا سودا خریدا اور بڑی بحث کے بعد سو روپیہ دے کر چلا گیا۔میں نے اُس دکاندار سے ہنس کر کہا کہ آپ تو کہتے تھے ہمارے ہاں ایک ہی قیمت ہوتی ہے۔وہ کہنے لگا قیمت تو ایک ہی ہوتی ہے لیکن اگر کوئی شخص میرا مال اُٹھا کر لے جائے اور میں اسے معزز آدمی سمجھ کر چھوڑ دوں تو یہ بالکل اور چیز ہوگی۔پھر اُس نے کہا آپ نہیں جانتے یہ فلاں شخص ہے اور یہ اتنا بڑا تاجر ہے کہ بمبئی میں اس کی کئی کپڑے کی ملز ہیں مگر یہ آدھ گھنٹہ مجھ سے یہی بحث کرتا رہا کہ میں کپڑے کی قیمت کم کر دوں۔حالانکہ یہ اس آدھ گھنٹہ میں ایک لاکھ روپیہ کما سکتا تھا اور پھر اتنی بحث کے بعد بھی جب میں نے نہ مانا تو ایک سو دس روپیہ کی بجائے سوروپیہ دے کر چلا گیا۔پھر اُس نے کہا میں اس شخص کی ماں کو جانتا ہوں وہ ہر روز جب کھانا کھانے کے لیے آتی ہے تو اُس کے سامنے پانچ سو روپیہ کا ڈھیر لگا دیا جاتا ہے اور وہ اپنے پاؤں سے اُس ڈھیر کو چھو دیتی ہے۔اس کے بعد وہ تمام روپیہ غریبوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔گویا اُدھر تو اس کی یہ حالت ہے کہ پانچ سوروپیہ روزانہ یعنی ایک لاکھ اسی ہزار روپیہ سالا نہ صرف اپنی ماں کے پاؤں چھونے کی وجہ سے غریبوں میں تقسیم کر دیتا ہے اور ادھر دس روپیہ کے فائدہ کے لیے اُس نے آپ کا وقت الگ ضائع کیا اور مجھے الگ پریشان کیا اور آخر سور و پیہ دے کر چلا گیا اور وہ بڑا خوش ہے کہ میں نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔اب بتائیے ایسے شخص کا ہم کیا علاج کر سکتے ہیں۔غرض ہندوستان جیسے غریب ملک میں جو ایک زمانہ میں انگریزوں کے ماتحت تھا ایسے ایسے لوگ موجود تھے جو صرف اپنی ماں کے پاؤں چھونے کی وجہ سے ایک لاکھ اسی ہزار روپیہ سالانہ غریبوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے اور اس کے علاوہ جو دوسرے مواقع پر وہ صدقہ وخیرات دیتا ہوگا وہ تو کئی لاکھ تک جا پہنچتا ہوگا۔یہ تو ہندوستان جیسے غریب ملک کا حال ہے دوسرے ممالک کے امراء تو کروڑوں کروڑ روپیہ خرچ کرتے ہیں۔خود مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اگر چاہیں تو دودو، چار چار، پانچ پانچ لاکھ روپیہ آسانی سے دے سکتے ہیں۔پس بیشک بعد میں بڑے بڑے امراء آ ئیں گے لیکن یہ زمانہ ہماری کمزوری کا زمانہ -