خطبات محمود (جلد 32) — Page 258
$1951 258 خطبات محمود چھ سات ہزار روپیدان کا جمع ہے جس میں اور روپیہ ڈال کر ہالینڈ کی مسجد بنے گی۔پھر یہ چندہ انہوں نے ایسے وقت میں دیا ہے جبکہ بجنہ کا دفتر بنانے کے لیے بھی انہوں نے چودہ پندرہ ہزار روپیہ جمع کیا تھا۔اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جتنا جتنا کسی کے پاس روپیہ کم ہوتا ہے اتنا ہی اُس کا حوصلہ زیادہ ہوتا ہے۔مردوں کے پاس چونکہ روپیہ زیادہ ہوتا ہے اس لیے اُن کا حوصلہ کم ہوتا ہے لیکن عورتوں کے پاس چونکہ روپیہ کم ہوتا ہے اس لیے وہ کہتی ہیں کہ روپیہ تو یوں بھی ہمارے پاس ہے نہیں چلو جو کچھ ملتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے رستہ میں ہی قربان کر کے اُس کی رضا حاصل کریں۔مگر جس کے پاس روپیہ ہوتا ہے وہ کہتا ہے میر افلاں کام بھی پڑا ہے اس کے لیے مجھے دس روپے چاہیں ، فلاں کام پڑا ہے اس کے لیے ہیں روپے چاہیں۔غرض ہمارا تجربہ ہمیشہ بتاتا ہے کہ عورت اپنی توفیق اور ہمت سے بہت زیادہ قربانی کرتی ہے اور مرد اپنی توفیق اور ہمت سے کم قربانی کرتا ہے۔بیشک ایسے مرد بھی موجود ہیں جو اپنی توفیق اور ہمت سے بہت زیادہ قربانی کرنے والے ہیں لیکن اگر اکثریت کو دیکھا جائے تو عورت کا پلہ بھاری نظر آتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی جب خاص قربانی کی ضرورت ہوا کرتی تھی تو آپ عورتوں سے ہی اپیل کیا کرتے تھے کیونکہ آپ سمجھتے تھے کہ عورت جذباتی ہوتی ہے۔جب قربانی کرنے پر آجائے تو وہ غیر معمولی طور پر قربانی کر جاتی ہے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ ضرورت پیش آئی تو آپ نے عید کی نماز کے بعد عورتوں میں تحریک کی اور انہوں نے اپنے زیور اتار کر چندہ میں دینے شروع کر دیئے۔یوں تو عورت کوسب سے زیادہ زیور ہی پسند ہوتے ہیں کیونکہ وہی اس کی جائداد ہوتے ہیں لیکن جب اسے جوش آجائے تو پھر وہ اسی زیور کو جو اسے محبوب ہوتا ہے اُتار کر پھینک دیتی ہے۔عورتوں نے اسی طرح کیا اور زیور اتار اُتار کر دینے شروع کر دیئے مگر چونکہ اکثر غریب عورتیں تھیں اس لیے ان کے پاس کم قیمت زیور تھے۔کسی نے چھکہ دے دیا، کسی نے مر کی دے دی اور کسی نے اسی قسم کی کوئی اور چیز دے دی۔ایک صحابی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیور اکٹھا کرنے کا حکم دیا تھا اور وہ جھولی پھیلائے ادھر ادھر پھر رہے تھے اور عورتیں گھونگٹ نکالے بیٹھی تھیں۔اتنے میں ایک امیر گھرانے کی لڑکی نے سونے کا کڑا اپنے ہاتھ سے اُتارا اور اُس کی جھولی میں ڈال دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب دیکھا کہ اس نے بڑی بھاری رقم