خطبات محمود (جلد 32) — Page 229
1951ء 229 خطبات محمود لڑیں گے، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن ہماری لاشوں پر سے گزرے بغیر اسلام کے جسم تک نہیں پہنچ سکتا۔ غرض وعدے زمانہ کے لحاظ سے ہوتے ہیں لیکن وعدہ معاہدے سے بہر حال کم ہے۔ وعدہ ایک طرف سے ہوتا ہے اور معاہدہ دونوں طرف سے ہوتا ہے۔ اور میں نے تو تم سے کوئی وعدہ بھی نہیں کیا صرف ایک اعلان تھا جو میں نے کیا اور وہ بھی اُن حالات میں اعلان تھا جب مستقبل میرے سامنے نہیں تھا جب مستقبل تمہارے سامنے نہیں تھا۔ اگر مستقبل تمہارے سامنے ہوتا کہ اب ساری دنیا میں اسلام کی اشاعت کا وقت آن پہنچا ہے تو میں نے جب تم سے کہا تھا کہ آؤ اور تین سال کے لیے قربانی کرو تو تم فوراً کھڑے ہو جاتے اور کہتے کہ تین سال میں کیا ہو سکتا ہے؟ تین سال میں تو ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کی بنیادیں بھی نہیں رکھی جاسکتیں۔ پھر اگر مستقبل تمہارے سامنے ہوتا تو جب میں نے تم سے کہا تھا کہ آؤ اور دس سال کے لیے قربانی کرو تو تمہارا فرض تھا کہ تم کھڑے ہو جاتے اور کہتے دس تم سال میں ہم ساری دنیا میں کس طرح تبلیغ اسلام کر سکتے ہیں؟ پھر اگر مستقبل تمہارے سامنے ہوتا تو جب میں نے تم سے کہا تھا کہ آؤ اور انیس سال کے لیے قربانی کرو تو چاہیے تھا کہ تم کھڑے ہو جاتے اور کہتے کیا انیس سال میں اسلام ہمیشہ کے لیے قائم ہو سکتا ہے؟ یہ کام تو قیامت تک کے لیے ہے۔ یہ تو جس طرح نماز دس سال کے لیے نہیں ، نماز انیس سال کے لیے نہیں ، روزہ دس سال کے لیے نہیں ، روزہ انیس سال کے لیے نہیں۔ اسی طرح اسلام کی تبلیغ اور جہاد بھی دس یا انیس سال کے لیے نہیں ہو سکتے ۔ اگر نماز انیس سال کے لیے ہوسکتی ہے، اگر روزہ انیس سال کے لیے ہو سکتا ہے، اگر زکوۃ انیس سال کے لیے ہو سکتی ہے تو پھر جہاد بھی انیس سال کے لیے ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر نماز ہمیشہ کے لیے ہے، اگر روزہ ہمیشہ کے لیے ہے، اگر زکوۃ ہمیشہ کے لیے ہے تو پھر جہاد بھی ہمیشہ کے لیے ہے۔ جس دن مسلمان جہاد سے غافل ہوئے اُسی دن تباہی کے گڑھے میں گرنے شروع ہو گئے اور یا تو وہ ساری دنیا پر غالب اور حکمران تھے اور یا ہر جگہ محکوم اور ذلیل ہو گئے ۔ کوئی زمانہ تھا کہ یہی مقام جہاں کھڑے ہو کر میں اس وقت خطبہ پڑھ رہا ہوں یہاں مسلمانوں کی چھاؤنی ہوا کرتی تھی اور اِدھر سے اُدھر فو جیں جایا کرتی تھیں اور یا اب اُدھر سے ادھر فوجیں آنے لگی گئی ہیں۔ اس لیے کہ مسلمان جہاد بھول گئے۔ پہلے تم مسجدیں بناتے چلے جاتے تھے مگر اب تم واپس آ رہے ہو