خطبات محمود (جلد 32) — Page 227
$1951 227 خطبات محمود تو ایک انصاری کھڑے ہوئے۔اس وقت تک انصار کا گروہ خاموش بیٹھا ہوا تھا مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرمایا کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔تو انصار نے سمجھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مُراد ہم سے ہے ورنہ مہاجرین تو مشورہ دے ہی رہے ہیں۔چنانچہ ایک انصاری کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! مشورہ تو آپ کو دیا جا رہا ہے مگر آپ جو بار بار فرما رہے ہیں کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا اشارہ ہماری طرف ہے کہ مہاجر تو بول رہے ہیں انصار کیوں نہیں بولتے۔یارسول اللہ ! ہم تو اس لیے چپ تھے کہ وہ لشکر جو مکہ کی طرف سے آیا ہے اُس میں ان مہاجرین کا کوئی باپ ہے، کوئی بیٹا ہے، کوئی بھائی ہے اور کوئی اور عزیز ہے۔ہم اس شرم کے مارے نہیں بولتے تھے کہ اگر ہم نے کہا مقابلہ کریں تو مہاجرین یہ سمجھیں گے کہ یہ ہمارے ماں باپ اور بھائیوں اور بیٹوں کو مارنا چاہتے ہیں۔پس ہماری خاموشی کی اصل وجہ یہ تھی۔پھر اُس نے کہا یا رسول اللہ ! آپ جو ہم سے بار بار کہہ رہے ہیں کہ بولو! تو شاید آپ کا اشارہ اُس معاہدہ کی طرف ہے جو آپ کی مدینہ میں تشریف آوری سے پہلے ہم نے کیا تھا اور جس میں ہم نے یہ شرط رکھی تھی کہ اگر مدینہ پر کسی دشمن نے حملہ کیا تو ہم اپنی جانیں دے دیں گے لیکن اگر مدینہ سے باہر نکل کر مقابلہ کرنا پڑا تو ہم اس میں شریک ہونے کے پابند نہیں ہوں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے۔(اب دیکھو وہاں ایک معاہدہ ہو چکا تھا مگر میں نے تو تمہارے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا تھا۔میر اصرف ایک اعلان تھا یہ نہیں کہ میرے اور تمہارے درمیان کوئی باقاعدہ معاہدہ ہوا ہو کہ میں تم سے صرف تین سال چندہ لوں گا یا دس سال چندہ لوں گا مگر یہاں تو انصار کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاہدہ تھا کہ اگر مدینہ پر حملہ ہوا تو ہم آپ کا ساتھ دیں گے لیکن اگر مدینہ سے باہر دشمن کا مقابلہ کرنا پڑا تو ہم اس میں شامل ہونے کے پابند نہیں ہوں گے )۔اس صحابی نے کہا بارسول الله ! جب یہ معاہدہ کیا گیا تھا اُس وقت ہمیں یہ پتا نہیں تھا کہ نبی کیا ہوتا ہے اور رسول کیا ہوتا ہے۔ہمیں آپ کی باتیں پسند آئیں اور ہم نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو آواز اٹھی ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کو قبول کر لیں۔لیکن اس کے بعد ہم نے خدا تعالیٰ کے متواتر نشانات دیکھے، آپ کی صداقت کے سینکڑوں معجزات دیکھے اور ہمیں معلوم ہوا کہ آپ کی شان کیا ہے۔پس یارسول الله اب معاہدات کا کوئی سوال نہیں معاہدات کا زمانہ گزر گیا۔اب اور زمانہ آ گیا ہے۔یارسول الله!