خطبات محمود (جلد 32) — Page 225
1951ء 225 خطبات محمود مدینہ حضرت عباس نے کہا تو پھر آؤ اور معاہدہ کرو۔ چنانچہ ایک معاہدہ کیا گیا جس میں یہ شرط بھی رکھی گئی کہ اگر مدینہ پر کفار حملہ کریں تو چونکہ آپ مدینہ ہماری درخواست پر تشریف لے جارہے ہیں اس لیے بینہ کے مسلمان اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں گے اور سارے کے سارے مرجائیں گے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی گزند نہیں پہنچنے دیں گے۔ لیکن اگر مدینہ سے باہر نکل کر کسی اور مقام پر لڑائی ہوئی تو چونکہ مدینہ ایک گاؤں ہے اور گاؤں کے رہنے والے سارے ملک کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ اس لیے ہم مدینہ سے باہر لڑائی کرنے کے پابند نہیں ہوں گے۔5 غرض معاہدہ ہو گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے ۔ جب آپ مدینہ چلے گئے تو وہی ہوا جس کا حضرت عباس کو خطرہ تھا۔ ادھر آپ مدینہ پہنچے اور اُدھر مکہ والوں کا مدینہ نے انہیں کہنا شروع کر دیا کہ کمبختو ! تم بڑے بے ایمان ہو گئے ہو یہ شخص تمہارے بنوں کی ہتک کرتا ہے، تمہارے باپ دادا کو جھوٹا کہتا ہے اور پھر تمہارے شہر میں بیٹھ کر اپنے عقائد کو پھیلا رہا ہے۔ یا تو تم خود اس کے ساتھ لڑائی کر دیا اسے اپنے شہر سے نکال دوورنہ ہم سب مل کر مدینہ پر حملہ کر دیں گے اور تمہیں اس کی سزا دیں گے۔ ادھر اِکا دُکا مسلمانوں پر انہوں نے حملے شروع کر دیئے۔ ان کے قافلے جو شام میں تجارت کے لیے جاتے تھے انہوں نے اپنے اصل راستہ کو چھوڑ کر مدینہ کے ارد گرد کے قبائل میں سے گزرنا شروع کیا اور اُن کو مدینہ والوں کے خلاف اکسانا شروع کر دیا۔ غرض ملک میں چاروں طرف ایک شورش برپا ہوگئی۔ اسی دوران میں بعض چھوٹی چھوٹی لڑائیاں بھی ہوئیں اور اس کے بعد بدر کی مشہور اور معرکۃ الآراء جنگ ہوئی۔ اس جنگ کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ شام سے کفار کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ ابوسفیان کی سرکردگی میں آ رہا تھا۔ مکہ کے لوگوں نے اس خیال سے کہ کہیں مسلمان اس قافلہ پر حملہ نہ کر دیں ایک بہت بڑا لشکر ابو جہل کی قیادت میں تیار کر کے بھجوا دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کواللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ بتایا کہ دشمن آ رہا ہے، قافلہ بھی آ رہا ہے اور فوج بھی آ رہی ہے۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اکٹھا کیا اور انہیں بتایا کہ یہ صورت حالات ہے۔ اگر اس وقت ہم باہر نہ نکلے تو کفار تمام عرب میں شور مچائیں گے اور ارد گرد کے قبائل مسلمانوں کے خلاف بھڑک اٹھیں گے۔ اس لیے مناسب یہی ہے کہ باہر نکل کر دشمن کا