خطبات محمود (جلد 32) — Page 224
خطبات محمود آپر 224 $1951 وعدے کیے گئے تھے مگر انہوں نے تین یا دس کی پروا نہیں کی۔انہوں نے سمجھا کہ یہ تین اور دس اور انہیں تو ہمارے فائدہ کے لیے ہیں۔یہ فائدہ جتنا بھی بڑھتا چلا جائے ہمارے دل میں اُتنی ہی خوشی پیدا ہوگی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ پر ایمان لانے والوں کو جب مکہ والے متواتر دکھ دیتے چلے گئے اور انہوں نے اسلام کے مٹانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے چند لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرما دی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نصیحت فرمائی کہ مدینہ میں تبلیغ کے ذریعہ اپنی تعداد کو بڑھانے کی کوشش کرو۔چنانچہ اگلے سال حج کے موقع پر وہ بہت بڑی تعداد میں مکہ پہنچے اور وہ آپس میں یہ مشورہ کر کے آئے کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کریں گے کہ اب مکہ کو چھوڑیے اور ہمارے شہر میں تشریف لے آئے۔چنانچہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، انہوں نے آپ سے باتیں کیں، آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ ہمارے ساتھ چلیں اور اب مکہ کو چھوڑ دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس ملاقات کے وقت حضرت عباس کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے جو اگر چہ عمر میں آپ سے صرف دو سال بڑے تھے لیکن بڑے زیرک اور ہوشیار تھے، مکہ کے پیچ تھے اور اس وجہ سے سیاسیات کو خوب سمجھتے تھے۔اور گو وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے مگر چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھے تعلقات رکھتے تھے اس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔جب مدینہ والوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تو حضرت عباس نے کہا باتیں کر لینی آسان ہوتی ہیں لیکن ان کو نبھانا مشکل ہوتا ہے۔اگر تم لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے گئے تو تمہیں یادرکھنا چاہیے کہ مکہ والوں نے اپنی مخالفت سے باز نہیں آنا اور پھر وہاں بھی مخالفت کا ہونا ایک لازمی امر ہے۔مکہ میں تو ان کے رشتہ دار موجود ہیں اور اس وجہ سے لوگ ان پر حملہ کرتے ہوئے ڈرتے ہیں لیکن مدینہ میں رشتہ دار نہیں ہوں گے۔اس لیے تم خوب سوچ سمجھ کر بات کرو۔اگر تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے جاؤ گے تو تمہیں آپ کی حفاظت کے لیے مرنا بھی پڑے گا۔انہوں نے کہا ہم اس بات کو خوب سمجھتے ہیں اور ہم نے تمام باتوں کو سوچ سمجھ کر یہ درخواست کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لے چلیں۔