خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 14

1951ء 14 خطبات محمود کہ بُری بات نہیں بلکہ ہجرت انبیاء کی سچائی اور اُن کی راستبازی کا ثبوت قرار دی گئی ہے۔ وہ مسلمان کہلاتے ہیں مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوئے ہیں، تاریخیں پڑھتے ہیں جن میں ہجرت کا ذکر آتا ہے، حدیثیں پڑھتے ہیں جن میں ہجرت کا ذکر آتا ہے، قرآن پڑھتے ہیں جس میں ہجرت کا ذکر آتا ہے اور پھر ہجرت پر اعتراض کرتے ہیں۔ اس سے زیادہ مسلمانوں کی بدبختی اور کیا ہوگی کہ ایک چیز کو مان بھی رہے ہیں اور اس پر اعتراض بھی کر رہے ہیں۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ اگر کسی ناواقف کے منہ سے اعتراض نکلتا بھی تو دوسرا مولوی اُسے نصیحت کرتا کہ تم کیا اعتراض کرتے ہو نبیوں کی ہجرت کرنا تو قرآن کریم اور حدیث سے ثابت ہے مگر کسی کو احساس نہیں کہ وہ دیانت - کہ وہ دیانت سے کام لے اور اندھا دھند اعتراض کرتے چلے جاتے ہیں ۔ لوگوں کے اخلاق کا اس قدر گر جانا بتاتا ہے کہ ان کی دشمنی اب کمال کو پہنچ چکی ہے۔ اور جب لوگوں کی دشمنی کمال کو پہنچ جائے تو ہمیشہ انسان کو فکر کرنا چاہیے۔ کیونکہ لوگوں کی دشمنی دو ہی وجہ سے اپنے کمال کو پہنچا کرتی ہے۔ یا تو اُس وقت دشمنی کمال کو پہنچتی ہے جب خدا تعالیٰ مومنوں کو کوئی فتح دینے لگتا ہے اور یا اُس وقت دشمنی کمال کو پہنچتی ہے جب خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی عذاب آنے والا ہوتا ہے۔ گویا یا تو دنیا کو نشان دکھانے کے لیے تمام لوگوں میں ایک جوش پیدا کر دیا۔ جاتا ہے، وہ مخالفت کرتے اور اسے انتہا تک پہنچا دیتے ہیں ۔ مگر پھر خدا تعالیٰ مخالفت کرنے والوں کو تباہ کر کے دنیا پر اپنا نشان ظاہر کرتا اور انہیں بتاتا ہے کہ دیکھو! انہوں نے اتنا جوش دکھایا، اتنی مخالفت کی، اتنا جتھا بنایا ، اتنی تدابیر کیں مگر پھر بھی میں نے ان کو تباہ کر دیا اور مومن بچ گئے ۔ مگر کبھی یہ مخالفت کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا دینے کے لیے پیدا کی جاتی ہے۔ لوگوں میں جوش پیدا ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ وہ اس قدر غلبہ حاصل کر لیتے ہیں کہ دوسرے فریق کو تباہ کر دیتے ہیں۔ پس جب بھی دشمنی انتہا کو پہنچ جائے انسان کو اپنے نفس پر غور کرنا چاہیے کہ آیا وہ ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے غیرت دکھائے اور اس کے دشمن کو تباہ کر دے؟ آیا اس کے اندر اس قدر نیکی پائی جاتی ہے، اس قدر سچائی پائی جاتی ہے، اس قدر خدا تعالیٰ کی محبت پائی جاتی ہے، اس قدر ذکر الہی کی عادت پائی جاتی ہے، اس قد ر قر بانی پائی جاتی ہے، اس قدر عبادت پائی جاتی ہے کہ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہو کہ خدا تعالیٰ اس کے لیے دنیا کوکوئی نشان دکھانا چاہتا ہے؟ اگر ایسا ہوتو یہ بڑی خوشی کی بات ہے۔ لیکن اگر یہ نظر آتا ہو کہ ہم میں کمزوریاں پائی جاتی ہیں، ہم نمازوں میں بھی سست ہیں، ہم پیچ پر بھی پوری طرح