خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 214

$1951 214 خطبات محمود اپنے گھروں سے بے دخل کر دیئے گئے ، اپنے سامانوں سے بے دخل کر دیئے گئے اور اپنے وطنوں سے نکال دیئے گئے اس لیے اُن کے دل ہل گئے اور انہوں نے سمجھا کہ یہ دنیا بے ثبات ہے۔اس کی دولت کا کوئی اعتبار نہیں۔چلو خدا تعالیٰ کے راستہ میں ہی ہم اپنے اموال کو قربان کر کے اس کی رضا حاصل کریں۔جب سال گزر گیا تو وہ خوف کم ہو گیا اور ایمان اُس معیار پر نہ رہا جس پر پہلے تھا اور وعدے پہلے سے کم ہو گئے۔جب دو سال گزر گئے تو ایمان اور بھی نیچے آ گیا۔اور جب تین سال گزرے تو ایمان اُس سے بھی زیادہ نیچے آ گیا۔اور 1947 ء کی وہ مصیبت ، آفت اور تباہی جو مسلمانوں پر آئی تھی انہیں بھول گئی۔پس ہوسکتا ہے کہ اس کمی کی ایک یہ وجہ بھی ہو لیکن یہ توجیہہ کر نی طبیعت پر گراں گزرتی ہے اور دل کو تکلیف پہنچاتی ہے کیونکہ اس سے ایک اور نتیجہ بھی نکلتا ہے جو خطرناک ہے۔جہاں ہم اس کمی کی یہ توجیہہ کر لیتے ہیں کہ در حقیقت یہ زیادتی اُن لوگوں کی طرف سے ہوئی تھی جن پر مصیبت نہیں آئی تھی اور اس وجہ سے ہوئی تھی کہ انہوں نے اپنے ساتھ کے مسلمانوں کی تباہی کو دیکھا اور وہ اتنا ڈر گئے کہ انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ دنیا بے ثبات ہے، اس کی ہر چیز فانی اور بے حقیقت ہے اور عقلمندی اسی میں ہے کہ وہ ان چیزوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دیں تا کہ انہیں اس کی طرف سے ثواب تو حاصل ہو۔مگر پھر جوں جوں صدمہ کم ہوتا گیا توں توں ان کی قربانی بھی کم ہوتی چلی گئی۔اگر ہم یہ توجیہ کریں اور ساتھ اس امر کو بھی مد نظر رکھیں کہ خدا تعالیٰ نے اسلام کی ترقی کے سامان ضرور کرنے ہیں۔یہ ہو نہیں سکتا کہ جس مذہب کو خدا تعالیٰ نے اس لیے بھیجا ہے کہ اُسے سارے دینوں پر غالب کرے، جس مذہب کو خدا تعالیٰ نے اس لیے بھیجا ہے کہ وہ تمام پرانے دینوں کو کھا جائے عین اُس وقت جب خدا تعالیٰ کا منشا اُس کو غالب کرنے کا ہو وہ گر جائے اور ہار جائے۔یہ تو قطعی طور پر ناممکن ہے۔دوسرے اس بات کو مد نظر رکھیں کہ یہ بھی یقینی بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ کام انہی لوگوں سے لینا ہے جنہوں نے دین کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو پیش کیا ہوا ہے۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ ا۔خدا تعالیٰ نے اپنے کام اُن سے لیے ہوں جنہوں نے خدمت کے لیے اپنے آپ کو پیش نہیں کیا۔حضرت موسی علیہ السّلام آئے تو خدا تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کے دین کی اشاعت فرعون اور اس کے ساتھیوں سے نہیں لی بلکہ موسٹی کے ماننے والوں سے لی۔حضرت عیسی علیہ السلام آ۔