خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 210

1951ء 210 خطبات محمود اور کمانڈر انچیف میں بہت بڑا فرق ہے۔ بظاہر تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ ہر فرد کو قومی کام کا احساس ہوتا لیکن ” واشنگٹن سمجھتا تھا کہ چونکہ کام کا ذمہ دار میں ہوں اس لیے مجھے اس کام کا زیادہ احساس ہونا چاہیے۔ اس لیے دوسروں کی نسبت اُسے کام کا زیادہ خیال رہتا تھا۔ سپاہی قلعہ بنا رہے تھے اور وہ کار پورل اُن سے کام کروا رہا تھا اور کہ رہا تھا شاباش! بہادرو! اینٹیں اٹھاؤ، لکڑی اٹھاؤ لیکن وہ خود کام نہیں کرتا تھا۔ اُسے اپنے عہدے کی وجہ سے گھمنڈ اور غرور تھا کہ میں کارپورل ہوں۔ اتنے میں ایک بڑا گولہ لکڑی کا آیا جسے انہوں نے چھت پر چڑھانا تھا لیکن آدمی کافی نہیں تھے۔ وہ زور لگاتے تھے لیکن گولہ نیچے گر جاتا تھا۔ کارپورل پاس اکڑا ہوا کھڑا تھا اور کہہ رہا تھا شاباش بہادرو! زور لگاؤ ، ہمت کرو اور اس گولے کو چھت پر چڑھا دو۔ اتنے میں ایک سفید گھوڑے پر سوار ایک آدمی پاس سے گزرا۔ اُس نے جب یہ نظارہ دیکھا تو پوچھا کیا بات ہے؟ کار پورل نے کہا یہ بہت ضروری کام ہے جو ہم نے شام تک ختم کرنا ہے لیکن یہ گولہ ہم سے چھت پر نہیں چڑھتا۔ یہ سن کر وہ شخص گھوڑے سے اترا اور سپاہیوں کے ساتھ مل کر اُس نے لکڑی کو اٹھایا اور چھت پر رکھ دیا لیکن وہ کار پورل پاس کھڑا رہا۔ جب وہ واپس کوٹنے لگا تو کار پورل نے خیال کیا میرا فرض ہے کہ اس کا شکر یہ ادا کروں۔ چنانچہ اُس نے اُسے بلایا اور کہا میاں ! ادھر آؤ۔ جب وہ آیا تو کار پورل نے کہا میاں ! میں تمہارا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ تم نے قومی کام میں حصہ لیا ہے۔ وہ مسکرایا اور کہا جب بھی تمہیں کوئی مشکل پیش آ جائے یا کوئی ایسا کام آجائے آجائے جسے کرنا تم پسند نہ کرو تو تم اپنے کمانڈر واشنگٹن کو اطلاع کر دیا کرو وہ فوراً حاضر ہو جائے گا۔ وہ کار پورل یہ دیکھ کر کہ وہ شخص خود اُن کا کمانڈر واشنگٹن ہے سخت شرمندہ ہوا۔ واشنگٹن نے کہا محض نعروں سے کام نہیں ہوتا ۔ اگر تمہیں یہ احساس ہوتا کہ یہ میرا اپنا کام ہے تو کیا تم اس طرح پاس کھڑے رہتے۔ یہ کام میرا کام ہے اس لیے مجھے اس کا احساس ہے۔ اب کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ واشنگٹن کو تو اپنے کام کا احساس تھا لیکن خدا تعالیٰ کوا۔ اپنے کام کا احساس نہیں ۔ یاد رکھو! جب بھی تم اُس کی طرف متوجہ ہو گے، جب بھی تم اُس کی طرف رُخ کرو گے اور کہو گے کہ خدایا ! ہمارے سامنے یہ یہ مشکلات ہیں ، کام تیرا ہے ہم کرتے تو ہیں لیکن اس کو مکمل کرنے کی ہم میں طاقت نہیں ، اب تو ہی ہماری مدد فرما۔ تو تم دیکھو گے اُس وقت خدا تعالیٰ اور اُس کے فرشتے آئیں گے اور وہ کام کر دیں گے۔