خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 209

1951ء 209 خطبات محمود پیدا ہو جاتا تھا اور وہ پچاس ساٹھ اینٹوں کی لائن ساری کی ساری گر جاتی تھی۔ یہی حال جماعت کا ہے۔ ایک آواز آتی ہے اور ساری کی ساری جماعت کھڑی ہو جاتی ہے اور ایک ٹھوکر لگتی ہے تو ساری کی ساری جماعت گر جاتی ہے۔ ایسے حال میں خدا تعالیٰ پر نظر رکھنا اور اُس پر توکل کرنا بڑا ضروری ہے اور اس میں ذرہ بھر کوتاہی کرنا جماعت کی جماعت کو گرا دیتا ہے۔ اب اگر خالص انسانی کاموں میں خدا تعالیٰ سے استمد اد کرنا اثر پیدا کرتا ہے تو خدائی کاموں میں اس سے استمد اد کرنا کیوں اثر پیدا نہ کرے گا۔ دنیا میں قو میں گرتی اس لیے ہیں کہ ان کے افراد کام کی عظمت اور اپنی کمزوریوں کو دیکھ کر ہمت ہار بیٹھتے ہیں ۔ وہ خدا تعالیٰ کو نہیں دیکھتے اور اس سے استمد ادنہیں کرتے۔ اگر تم خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جاؤ گے تو تم ضرور کامیاب ہو گے۔ خدا تعالیٰ نے جب خود ایک کام کرنے کا حکم دیا ہے تو وہ اسے کیوں پورا نہیں کرے گا۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ تم خدا تعالیٰ کا کام کرو اور وہ خود اپنا کام نہ کرے؟ جب آقا اپنے کسی نوکر کو کوئی کام کرنے کا حکم دیتا ہے تو اُسے اپنے کام کا اپنے نوکر سے زیادہ احساس ہوتا ہے۔ ،، جب امریکہ میں انگریزوں کے خلاف بغاوت ہوئی اور لڑائی شروع ہو گئی تو امریکن بے سروسامان تھے۔ ملک کے تاجر اور زمیندار اُٹھ کھڑے ہوئے تھے کہ وہ اپنا ملک آزاد کرائیں گے۔ اُن کے پاس نہ فوج تھی ، نہ سامان جنگ تھا لیکن انگریزوں کے پاس سامانِ جنگ بھی تھا اور فوج بھی ۔ اس لیے انگریز انہیں بری طرح مارتے تھے۔ امریکہ کے باشندوں نے اپنے میں سے ایک بہترین شخص واشنگٹن کو اپنا افسر بنایا اور اُسے کمانڈرانچیف مقرر کیا۔ تاریخ سے پتا لگتا ہے کہ اُس کے اندر ایک آگ لگی ہوئی تھی اور اسے احساس تھا کہ یہ کام میں نے ہی کرنا ہے۔ وہ دیوانہ وار ادھر ادھر پھرتا تھا اور جہاں سستی پاتا تھا لوگوں میں تقریریں کر کے اور جوش دلا کر انہیں دوبارہ کھڑا کرتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ امریکنوں نے انگریزوں کو ملک سے باہر نکال دیا۔ اور اب امریکہ اتنی بڑی طاقت ہے کہ انگریز غلاموں کی طرح اُس کے پیچھے پیچھے چلتا ہے۔ اسی واشنگٹن کا ایک لطیفہ مشہور ہے جس سے پتا لگتا ہے کہ جس کا کام ہوتا ہے اُسے اُس کا کتنا احساس ہوتا ہے۔ کسی جگہ پر انگریزوں کے حملہ کا ڈر تھا۔ سپاہیوں کا فرض تھا کہ وہ ایک چھوٹا سا قلعہ تعمیر کریں۔ ایک کار پورل (یعنی ہمارے ملک کا صوبہ دار ) اُن کا نگران تھا۔ اب کار پورل