خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 208

$1951 208 خطبات محمود اور ملک کے ملک کو تباہ کر دیتی ہیں۔پھر جو زندہ بچتی ہیں وہ واپس چلی آتی ہیں اور وہاں پلنی شروع ہو جاتی ہیں۔یو۔این۔اونے ٹڈی کے متعلق ایک کمیشن مقرر کیا ہے کہ کسی طرح یہ پہلے پتا لگ جائے کہ ٹڈی نے کدھر جانا ہے اور کس وقت جانا ہے کیونکہ وہ ایک نظام کے ماتحت چلتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کہیں آگ لگتی ہے تو کوئی آدمی کہیں بھاگتا ہے اور کوئی آدمی کہیں بھاگتا ہے لیکن ٹڈی ایک نظام کے ماتحت ایک لائن پر چلتی ہے۔ہزاروں ہزار میل سے آتی ہے اور پھر واپس ہو کر دو چار سال بعد کسی اور ملک کی طرف نکل جاتی ہے۔اس کے راستے مقرر ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ ایک قانون کے ماتحت چلتی ہے۔پھر شکار ہے لوگ شکار کے لیے باہر جاتے ہیں۔شکار بھی ایک خاص قانون کے ماتحت آتا ہے۔پہاڑوں سے جانوروں کے جھنڈ اُڑتے ہیں، تلیر اُڑتے ہیں، قاز 1 اُڑتے ہیں اور ان کی ڈار میں ایک لائن میں چلتی جاتی ہیں اور اس طرح خاص علاقوں میں شکار پیدا ہو جاتا ہے۔گویا جانوروں میں الہام کے طور پر کوئی بات آتی ہے اور وہ اُڑتے ہیں اور کسی خاص علاقہ کی طرف نکل جاتے ہیں۔غرض قانونِ قدرت کا ہاتھ ہر کام میں اتنا نظر آتا ہے کہ اگر ہم اسے نظر انداز کر دیں تو صحیح راستہ سے بھٹک جائیں۔خصوصاً جماعتی کاموں میں اگر خدا تعالیٰ کی مدد نہ ہو، اگر قانونِ قدرت اور نیچر کا لحاظ نہ رکھا جائے تو ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔اور جو جماعتیں انبیاء بناتے ہیں اُن میں تو جماعتی اثر اتنا ہوتا ہے کہ وہ انبیاء خود اپنی ذات میں ایک جماعت ہوتے ہیں۔جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ ابْرهِيمَ كَانَ اُمَّةً - 2 یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی ذات میں ایک جماعت تھے۔پس انبیاء کے کاموں میں اور جماعتی کاموں میں خدا تعالیٰ کی مدد کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔اگر کسی فرد کا کام خراب ہو جاتا ہے تو اُس کا اثر اُسی کی ذات پر ہو گا۔لیکن اگر جماعت میں کوئی غلطی پیدا ہوگی تو سارا کام خراب ہو جائے گا۔بچپن میں ہم ایک کھیل کھیلا کرتے تھے۔شاید اب بھی بچے کھیلتے ہوں اور وہ اس طرح کہ ہم ایک لائن میں تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر اینٹیں کھڑی کر دیتے تھے۔پھر اس لائن کے ایک طرف کھڑے ہو کر ایک اینٹ کو ٹھوکر لگاتے تھے تو وہ اینٹ دوسری اینٹ پر گرتی تھی۔وہ اینٹ آگے تیسری اینٹ پر گرتی تھی اور پھر وہ چوتھی اینٹ پر گرتی تھی۔اس طرح ایک خاصا نظارہ