خطبات محمود (جلد 32) — Page 207
1951ء 207 خطبات محمود دس کی بجائے پانچ روپیہ خرچ کرتی ہے۔ بہر حال دنیا کے سب کاموں کی بنیاد تعاون پر ہے۔ یورپ، امریکہ، ہندوستان اور دیگر ممالک کا تمام نظام تعاون کے ساتھ چل رہا ہے۔ آگے اولاد آ جاتی ہے، خاندان کا وقار، عزت اور شہرت کا تعلق اولاد کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر اولا دیگڑ جائے تو اُس خاندان کا وقار، عزت اور شہرت قائم نہیں رہ سکتی ۔ اب اولاد کا درست رکھنا خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے انسان کے اختیار میں نہیں۔ کسی خاندان کی خواہ کتنی عزت ہو، شہرت ہو لیکن اولا د بگڑ جائے تو کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔ حضرت خلیفة المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے پنجاب میں خصوصاً سرگودھا میں وہ خاندان بستے ہیں جو ابو جہل کی نسل میں سے ہیں لیکن ان خاندانوں کے افراد کبھی نہیں بتائیں گے کہ وہ ابو جہل کی نسل میں سے ہیں۔ پھر کئی ماں باپ ایسے ہیں جن کی اولا دخراب ہوتی ہے۔ جن لوگوں کو ان کی اولاد کا علم ہوتا ہے اُن کو تو علم ہوتا ہے لیکن وہ دوسروں کو دلیری اور جرات کے ساتھ کبھی نہیں بتائیں گے کہ فلاں میرا بیٹا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس سے ان کی بے عزتی ہوگی ۔ اب یہ کسی انسان کے اختیار میں نہیں کہ اس کی اولا د ٹھیک ہو، اس کے اخلاق اچھے ہوں اور وہ خاندان کی عزت، شہرت اور وقار کو قائم رکھنے والی ہو۔ غرض اہلی نظام ہو یا قومی نظام خدا تعالیٰ کی مدد کے بغیر چل نہیں سکتا۔ جب قوم بگڑتی ہے تو ایک آدمی خواہ کتنی شہرت والا ہوا سے درست نہیں کر سکتا کیونکہ اس میں فرشتوں کا دخل ہوتا ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کا کام آتا ہے۔ جب خدا تعالیٰ حکم دیتا ہے تو قو میں درست ہو جاتی ہیں۔ ہم نے تو دنیوی امور میں بھی دیکھا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کسی قوم میں بیداری پیدا کرتا ہے تو حیرت انگیز طور پر کرتا ہے۔ مثلاً دیکھ لو جرمن قوم کی حالت کس قدر گری ہوئی تھی لیکن ان میں ہٹلر پیدا ہوا اور چند سالوں میں اُس نے اپنی قوم کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ یہ انقلاب جو جرمن قوم میں ہوا ہٹلر کے اثر کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ یہ ایک رو تھی جو خدا تعالیٰ نے چلائی تھی ۔ ٹڈی کو دیکھ لو ہزاروں میل سے آتی ہے۔ ٹڑی سائبیریا سے آتی ہے، چین سے آتی ہے یا افریقہ کے جنگلات سے آتی ہے۔ اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوتا ہے اور وہ یکدم ایک ملک میں نمودار ہو جاتی ہے۔ میں نے ٹڈی کے متعلق لٹریچر پڑھا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ٹڈیوں کے درمیان روحانی تاریں چلتی ہیں اور وہ یکدم اربوں ارب کی تعداد میں آ جاتی ہیں