خطبات محمود (جلد 32) — Page 206
1951ء 206 خطبات محمود نہیں آتی ، زمین بھی دریا کے پاس نہیں کہ چوہے آجائیں اور فصل کھا جائیں لیکن اچانک ایک چنگاری اُڑتی ہے اور کھلیان میں آگ لگ جاتی ہے۔ اب یہ انسان کے اختیار میں نہیں ۔ پھر بعض دفعہ دشمن بھی آگ لگا دیتا ہے اور دشمن بھی انسان کے اختیار میں نہیں۔ غرض کوئی کام ایسا نہیں جو مکمل طور پر انسان کے اختیار میں ہو۔ ہر ایک کام میں کچھ حصہ قانونِ قدرت یا دوسرے لوگوں کا ہوتا ہے۔ اب انسان کو دوسرے لوگوں کی مدد نہ ملے یا قانون قدرت مدد نہ کرے تو وہ کوئی کام نہیں کر سکتا۔ یہ نکتہ ہے جو ہمیں اذان سکھاتی ہے۔ غور تو کرو آخر کتنے کام ہیں جو انسان کے اپنے اختیار میں ہیں ۔ تمہیں غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ دنیا کے ہر کام میں تعاون اور قانونِ قدرت شامل ہیں ۔ گھروں میں دیکھ لو۔ ہمارے لوگ تو تعلیم میں بہت پیچھے ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے جو معیشت کا سامان بنایا تھا یورپ کے لوگ بھی اسے بدل نہیں سکے۔ میاں بیوی دونوں گھر کا کام چلا سکتے ہیں ۔ تم میں نو کر رکھ لولیکن میں نو کر وہ کام نہیں کر سکتے جو ایک بیوی کرتی ہے۔ انسان جتنے نوکر رکھے گا اُس کا کام بڑھ جائے گا۔ مثلاً گھر میں کپڑا رکھا ہے، روپیہ رکھا ہے یا غلہ رکھا ہے اور کسی کے دس نوکر ہیں تو اُسے دس آدمیوں کی نگرانی کرنی پڑے گی کہ کہیں وہ روپیہ غلہ یا سامان چرا کر نہ لے جائیں۔ اور اگر سونو کر ہوں گے تو اُسے سو آدمیوں پر نظر رکھنی پڑے گی۔ لیکن بیوی کے پاس انسان بغیر حساب کے روپیہ رکھ دیتا ہے، کپڑا رکھتا ہے اور اُس کی نگرانی کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ ہزاروں میں سے کوئی ایک عورت ہوگی جو اپنے خاوند کے سامان اور روپیہ کی حفاظت میں کوتاہی کرتی ہو گی ورنہ گھر کا سارا کام میاں اور بیوی کے ساتھ چل رہا ہے۔ خاوند سارا میں ہوگی رہا روپیہ : بیوی کو دے دیتا ہے۔ اُسے جب ضرورت ہوتی ہے بیوی روپیہ نکال دیتی ہے۔ غرباء میں تو عام رواج ہے کہ جب بچے کی شادی ہو تو باپ سمجھتا ہے یہ اخراجات کہاں سے لاؤں گا لیکن بیوی سارا انتظام کر دیتی ہے۔ کمانے والے کو پتا بھی نہیں ہوتا کہ ہمارے پاس کتنا روپیہ ہے لیکن جس کے پاس روپیہ جمع ہوتا ہے وہ فوراً نکال کر دے دیتی ہے اور وہ ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ پس خدا تعالیٰ نے میاں بیوی کو معیشت کا ذریعہ بنایا ہے۔ ہاں! اگر ساتھی اچھا نہیں ملتا تو ساری عمر تلخ ہو جاتی ہے۔ دنیا میں وہ آدمی بھی ہیں جن کی آمد ا چھی خاصی ہوتی ہے لیکن بیوی بیوقوف ہوتی ہے اور وہ سارا روپیہ ضائع کر دیتی ہے۔ ایک شخص کا پانچ روپیہ کی بجائے دس روپیہ خرچ ہوتا ہے تو دوسرے کی بیوی عقلمندی سے