خطبات محمود (جلد 32) — Page 198
1951ء 198 خطبات محمود ہوتا ہے کہ وہ بھی کہے اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ۔ اور ایک مومن اور دین سے واقفیت رکھنے والا آدمی مؤذن کے ساتھ ساتھ اللهُ اَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ کہتا ہے ان کلمات کو بلند آواز سے دہرانے کا حکم نہیں ) ۔ اس لیے جب مسجد میں بیٹھے ہوئے ایک مومن اور واقف دین ان الفاظ کو دہراتا ہے تو دوسرے شخص کو پتا نہیں لگتا۔ پھر جب مؤذن کہتا ہے اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ۔ اس پر سننے والے کو ارشاد ہوتا ہے کہ تم بھی کہو اللهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔ اور ایک مومن اور واقف دین ان کلمات کو دل میں دہراتا ہے۔ مؤذن اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کہتا ہے تو پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سننے والا یہ کلمہ دل میں دہرائے ۔ اور ایک مومن اور واقف دین یہ کلمہ اپنے دل میں دہراتا ہے۔ پھر مؤذن کہتا ہے اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ تو ارشاد ہوتا ہے تم بھی یہ کلمہ دل میں دہراؤ۔ اور ایک مومن اور واقف دین یہ کلمہ دل میں دہراتا ہے۔ پھر مؤذن کہتا ہے حَيَّ عَلَى الصَّلوةِ حَيَّ عَلَى الصَّلوةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ تو ارشاد ہوتا ہے تم یہ کلمات نہ دہراؤ بلکہ جب مؤذن حَيَّ عَلَی الصَّلوةِ اور حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کہتا ہے تو تم لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ کہو۔ چنانچہ جب مؤذن یہ کلمات کہتا ہے تو ایک مومن اور واقف دين لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ کہتا ہے ۔ گو بعض لوگوں نے تفقہ سے کام لے کر یہ فتوی دیا ہے کہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہ پڑھنے کے بعد وقفہ میں تم یہ کلمات بھی دہرالیا کرو۔ اور عادہ اکثر دفعہ میں بھی ان کلمات کو ڈہرا لیا کرتا ہوں لیکن یہ تفقہ زیادہ صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ میں عادہ تو ان کلمات کو ڈہرا لیتا ہوں لیکن جب سوچتا ہوں تو بات وہی صحیح معلوم ہوتی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے اور اُس پر زیادتی اچھی معلوم نہیں ہوتی ۔ پھر مؤذن کہتا ہے اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ تو ارشاد ہوتا ہے تم بھی یہ کلمات کہو۔ اور ایک مومن اور واقف دین دل میں ان کلمات کو دہراتا ہے۔ پھر مؤذن کہتا ہے لَا إِلَهَ إِلَّا الله تو ارشاد ہوتا ہے کہ تم بھی یہ کلمہ دہراؤ۔ اور ایک مومن اور واقف دین اس کلمہ کو دل میں دہراتا ہے۔ غرض جب مؤذن اذان دیتا ہے تو سننے والا اذان کے کلمات کو دہراتا ہے لیکن جو مؤذن حَی عَلَى الصَّلوةِ اور حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ کہتا ہے تو وہ ان کلمات کو دہرا تا نہیں بلکہ جب مؤذن حَيَّ عَلَى الصَّلوةِ اور حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ کہتا ہے تو سننے والا لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ کہتا ہے۔ جن لوگوں نے تفقہ سے یہ فتوی دیا ہے کہ وقفہ میں ان الفاظ کو بھی دہرا لیا جائے اُن کی بنیاد اس بات پر ہے