خطبات محمود (جلد 32) — Page 189
$1951 189 خطبات محمود کہ تم مجھے پیاز اور لہسن کھانے سے منع کرو۔مجھے پیاز اور لہسن پسند ہیں میں ضرور کھاؤں گا اور تم مجھے منع نہیں کر سکتے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام اُس کے اِس حق کو تسلیم کرتا ہے کہ جو چیز اُس کے لیے جائز قرار دی گئی ہے وہ اُسے کھالے لیکن اسلام کہتا ہے کہ جب تم مجلس میں آتے ہو تو تمہارے حقوق محدود ہو جاتے ہیں۔وہاں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ تمہارا کیا حق ہے اور تمہیں کیا چیز پسند ہے بلکہ وہاں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ دوسرے لوگوں کو کیا چیز پسند ہے۔اگر تم کوئی ایسی چیز کھا کر آ جاتے ہو جس سے بیٹھنے والوں کو تکلیف محسوس ہوتی ہو تو تم اسلام کی تعلیم کے خلاف جاتے ہو۔اسلام یہ کہتا ہے کہ جب تم مجلس میں آؤ تو بد بودار چیز کھا کر نہ آؤ اور نہ سر پر کوئی ایسی چیز لگاؤ جو بد بودار ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کو نہایت لطیف پیرایہ میں سمجھایا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مومن کیا ہوتا ہے؟ وہ فرشتہ ہوتا ہے۔فرمایا جب تم کوئی بد بودار چیز کھا کر آتے ہو تو فرشتے تکلیف اٹھاتے ہیں۔یعنی پاس بیٹھنے والے مومنوں کو اس سے تکلیف ہوتی ہے۔گویا مومنوں کو آپ نے فرشتے قرار دیا ہے۔پھر فرشتہ کہ کر اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ جس طرح فرشتہ خیر پہنچاتا ہے شتر نہیں پہنچا تا اسی طرح مومن بھی صرف خیر پہنچانے والا ہوتا ہے شتر پہنچانے والا نہیں ہوتا۔گویا اس طرح بتایا کہ جب تم پیاز اور لہسن کھا کر آتے ہو تو تمہاری مثال شیطان کی سی ہوتی ہے جو دوسرے کی ایذاء دہی میں خوش ہوتا ہے۔اور جو شخص لہسن اور پیاز یا کوئی اور بد بودار چیز کھا کر مجلس میں نہیں آتا وہ فرشتہ ہوتا ہے۔اس لیے کہ اگر چہ اُس کا یہ حق تھا کہ وہ لہسن اور پیاز کھالے اور خدا تعالیٰ نے یہ دونوں چیز میں اس کے لیے جائز قرار دی تھیں لیکن وہ انہیں نہیں کھاتا۔اس لیے کہ اُس کے پاس بیٹھنے والوں کو تکلیف نہ ہو۔گویا جو لوگ پیاز اور لہسن کھا کر مجلس میں آ جاتے ہیں وہ شیطان ہیں۔اور جو لوگ پیاز اور کی لہسن کھا کر مجالس میں نہیں آتے وہ فرشتے ہیں۔جب تک ہم ان اصولوں پر عمل نہیں کرتے جو تمدن کے لیے ضروری ہیں اُس وقت تک ہم یہ امید نہیں کر سکتے کہ ہم اسلام کی روشنی اور اس کی ترقی سے کوئی فائدہ اٹھا ئیں گے۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت چند مسائل پر چکر کھا رہی ہے۔وہ وفات مسیح وغیرہ پر زور دیتی ہے لیکن اسلام کے بنیادی اصولوں کی طرف اس کی توجہ نہیں۔مثلاً یہی چیز لے لو کہ کسی دوسرے شخص کو تمہارے ہاتھوں تکلیف نہ ہو۔اگر چہ میرے ذہن میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ بعض افراد نے