خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 160

1951ء 160 خطبات محمود کہ کوئی قوم اس قسم کے حالات سے نکل آئی ہو اور اُس نے حکومت کی ہو اور پھر ایسی حکومت کی ہو کہ دو چار سال میں وہ بیرونی دنیا میں مشہور ہوگئی ہو۔ میں نے تاریخ پر غور کیا ہے مجھے کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ اس قسم کے حالات میں کوئی قوم زندہ رہی ہو اور پھر اُس نے نہ صرف حکومت کی ہو بلکہ تمام بیرونی دنیا میں مشہور ہو گئی ہو۔ اس کے یہ معنے نہیں کہ خدا تعالیٰ نے انبیاء کی جماعتوں کی بہت کم مدد کی ہے۔ وہ مدد جو خدا تعالیٰ نے انبیاء اور اُن کی جماعتوں کی کی ، وہ نہایت عالیشان تھی لیکن وہ دنیوی وجوہ پر نہیں تھی وہ دینی وجوہ پر تھی ۔ غرض ایک دنیوی حکومت کا ان حالات میں بیچ جانا جن سے پاکستان گزرا ہے، پھر اس کا ترقی کرنا اور عزت حاصل کر لینا کوئی معمولی بات نہیں ۔ پھر اس نے یہ ترقی تین چار سال میں کر لی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا اس میں کتنا ہاتھ تھا۔ جماعت احمد یہ جن حالات سے گزر رہی ہے ان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خدا تعالیٰ سے کس قدر تعلقات تھے۔ آپ تنہا تھے پھر ہزاروں ہو گئے اور پھر ہزاروں سے لاکھوں ہو گئے ۔ پھر جس حالت میں جماعت چل رہی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت لاکھوں سے کروڑوں ہو جائے گی۔ یہ معجزے جن لوگوں کے کام نہیں آئے وہ یہی بات دیکھ لیں کہ اگر پاکستان طاقت کے زور سے بنتا تو یہ ناممکن تھا۔ لاکھوں آدمی مارا جا رہا تھا، گولہ بارود مارا رہا ہندوستان میں رہ گیا تھا، خزانہ خالی تھا، فوجیں باہر تھیں۔ ان حالات میں وہ کونسی طاقت تھی جس کے زور سے پاکستان بنا؟ روپیہ اُدھر تھا ، سامانِ جنگ اُدھر تھا ، کام کرنے والے اُدھر چلے گئے ، دس ہیں لاکھ کے قریب آدمی مارے گئے یہ صرف خدائی طاقت تھی جس کی وجہ سے پاکستان کا رعب پڑ گیا۔ جب بھی ہندوستان نے برا ارادہ کیا خدا تعالیٰ نے اُس پر رعب ڈال دیا اور اُس نے کہا کہ اب نہیں پھر سہی۔ پھر جب ارادہ کیا کہ پاکستان پر حملہ کیا جائے تو پھر رعب پڑ گیا اور انہوں نے کہہ دیا اب نہیں پھر سہی ۔ گو اب بھی سامان تھوڑے ہیں لیکن چار سال تک پاکستان کا قائم رہنا اور بیرونی دنیا میں اس کا مشہور ہو جانا اس میں خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہے۔ خدا تعالیٰ جس کی نصرت پر آتا ہے کوئی طاقت اُس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ پس اگر دنیوی امور میں وہ اس طرح مدد کرتا ہے تو وہ دینی باتوں میں کس طرح مدد کرے گا۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں دعاؤں کی طرف توجہ بہت کم ہوگئی ہے۔ دعاؤں کی ایک رسم پڑ گئی ہے لیکن دل میں اس کا کوئی اثر نہیں رہا۔ رسماً سب لوگ یہی کہیں گے ہمارے لیے دعا کرنا