خطبات محمود (جلد 32) — Page 150
1951ء 150 خطبات محمود اپنے ماں باپ کا تمدّن سیکھ جاتا ہے حالانکہ وہ بھی ایک مدرسہ ہے۔ لیکن یہاں چونکہ اُن کا اپنا انٹرسٹ اور دلچسپی تھی اس لیے انہیں کوئی مشکل پیش نہ آئی۔ ایک عرب کو انگریزی یا اردو سیکھنے میں یا ایک انگریز کو اردو یا عربی سیکھنے میں اُتنی ہی دقت پیش آتی ہے جتنی دقت ایک پنجابی کو انگریزی یا عربی سیکھنے میں آتی ہے۔ لیکن ہمارا ایک جاہل سے جاہل بچہ اس طرح اپنی زبان سیکھ جاتا ہے کہ اُسے پتا بھی نہیں لگتا۔ اسی طرح ایک عرب عربی سیکھ لیتا ہے اور انگریز انگریزی سیکھ لیتا ہے۔ لیکن جب کوئی انگریز یا عرب پنجابی سیکھنا چاہیں تو انہیں وہ مشکلات پیش آتی ہیں جو ہمیں عربی یا انگریزی سیکھنے میں آتی ہیں۔ اس کی وجہ ایک ہی ہے اور وہ دلچسپی اور عدم دلچسپی ہے۔ وہاں چونکہ دلچسپی اور شوق ہوتا ہے کہ ارد گرد کے لوگ ایک خاص قسم کے الفاظ بول رہے ہیں میں بھی یہ الفاظ سیکھ جاؤں اس لیے وہ آسانی سے سیکھ جاتا ہے۔ لیکن سکول میں وہ سمجھتا ہے کہ کوئی دوسرا آدمی اپنی مرضی کے مطابق اُسے کچھ سکھانا چاہتا ہے اس لیے وہ اُس کا مقابلہ کرتا ہے۔ اگر کوئی ہوشیار طالبعلم ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اُستاد کی مرضی کے مطابق چلنے میں اُس کا اپنا فائدہ ہے تو وہ ہوشیاری سے وہ چیز سیکھ لیتا ہے جو اُس کا استادا سے چ سکھانا چاہتا ہے۔ لیکن اگر کوئی طالبعلم ہو شیار نہیں ہوتا تو وہ استاد کا مقابلہ کرتا ہے۔ اس لیے کہ وہ اُسے آرام رام سے روکتا ہے اور اپنے عزیزوں کی صحبت میں بیٹھنے سے روکتا ہے، اپنے دوستوں میں بیٹھ کر گئیں مارنے سے روکتا ہے۔ وہ بظاہر سکول میں ہوتا ہے لیکن اُس کا دماغ گلی ڈنڈا کھیل رہا ہوتا ہے، کبھی کبڈی لیڈی کھیل رہا ہوتا ہے کبھی وہ ماں کی گود سے چھلانگ لگا رہا ہوتاہے اور کبھی وہ ماں باپ سے کوئی چیز مانگ رہا ہوتا ہے۔ استاد گھنٹہ بھر پڑھا کر بیٹھ جاتا ہے لیکن اُس کا دماغ اپنی گلی میں ہوتا ہے۔ بیشک گونگے زبان نہیں سیکھ سکتے اور بعض پاگل بھی اسی قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ سیکھ نہیں سکتے لیکن عام طور پر پاگل بھی زبان سیکھ جاتے ہیں۔ اپنی ماں کے پاس وہ بھی فیل نہیں ہوتے۔ یہ فرق محض دلچسپی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے ہے۔ ہماری جماعت میں اس ملک کے عام باشندوں کی طرح یہ عادت پائی جاتی ہے کہ وہ بچوں سے ناجائز محبت کرتے ہیں اور کہتے ہیں ابھی بچہ بڑا ہو گا تو آپ ہی سیکھ جائے گا۔ یہ ان کی غلطی ہے۔ وہ خود مذہب کے اس لیے پابند تھے کہ اُن کے اندر اس کے لیے رغبت پیدا ہوگئی تھی لیکن بچہ میں یہ احساس نہیں ہوتا کہ کونسا مذہب سچا ہے۔ اُس کے ماں باپ احمدی ہوتے ہیں اس لیے وہ بھی