خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 143

1951ء 143 خطبات محمود مخصوص طور پر اپنے ساتھ برکت لگا لیتا ہے۔ جیسے کسی نے کہا ہے وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے کبھی ہم اُن کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں ایک شخص کا محب یا محبوب اگر اس کے گھر آ جائے تو وہ دن اس کے لیے عزت افزائی اور برکت کا موجب ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض دنوں میں حج اور جمعہ اکٹھے ہو جاتے ہیں تو لوگ اس کا نام حج اکبر رکھ لیتے ہیں۔ بعض دنوں میں عید اور جمعہ اکٹھے ہو جاتے ہیں تو ہم کہتے ہیں دو عیدیں اکٹھی ہو گئی ہیں۔ اس سال بھی اس رنگ میں ہوا ہے کہ مغرب میں ہونے کی وجہ سے عرب میں ایک دن پہلے عید ہوگئی ہے۔ یہاں عید جمعرات کو تھی لیکن وہاں بدھ کو عید ہو گئی تھی ۔ اسی طرح حج منگل کو عرب میں ہوا اور بدھ وار کو حج کا دن یہاں آیا اور پھر منگل بدھ جمعرات کے بعد جمعہ کی عید آ گئی۔ گویا مشرق و مغرب میں فرق ہونے کی وجہ سے چار دن اکٹھے برکت والے آگئے ہیں۔ ہمارے دنوں کے لحاظ سے بدھ کا حج تھا لیکن خانہ کعبہ چونکہ مغرب کی طرف ہے اس لیے وہاں چاند بعض دفعہ ایک دن پہلے نکل آتا ہے۔ وہاں بدھ کے دن عید ہوئی اور منگل کو حج ہوا لیکن یہاں جمعرات کو عید ہوئی اور حج کا رہوئی اور منگل کو حج ہوالیکن یہاں جمعرات کو عید ہوئی اور دن بدھ کے حساب سے ہوا اور پھر جمعہ آ گیا۔ گویا اس ہفتہ کے سات دنوں میں چار عید میں آگئیں ۔ باقی تین دن رہ گئے جو عید میں نہیں تھیں لیکن اگر ان کے ساتھ ایام تسبیح کو مل لیا جائے تو سمجھ لو پانچ دن عید کے آ گئے کیونکہ جمعہ کا دن پہلے شمار کیا گیا ہے۔ گویا اس ہفتہ میں پانچ دن خاص برکت کے آ گئے ۔ اور ان کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ان دنوں میں دعائیں سنتا ہے، وہ بخشش کرتا ہے اور زیادہ مہربانی سے اپنے بندوں کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اس لیے مومن کو بھی ان کی قدر کرنی چاہیے اور ان کی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن ہمیشہ تجسس میں رہتا ہے کہ کونسا دن برکت والا ہے۔ قرآن کریم کی وہ آیت جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِی 1 میں نے آج تمہارا دین کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی ہے جب ایک یہودی نے سنی تو اُس نے کہا اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اسے ہمیشہ کے لیے عید بنا دیتے ۔ یہ بات ایک صحابی تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا تم تو اس دن کو عید بنا دیتے لیکن ہمارے تو حج کے موقع پر