خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 135

$1951 135 خطبات محمود اور دھار بھی رکھتی تھیں لیکن ہوا یہ کہ جس طرح لوگ جیبیں بند لائے تھے اُسی طرح بند جیبیں لے کر وہ واپس چلے گئے۔بعض جگہوں پر کارکن کھڑے ہوئے اور انہوں نے اچھل اچھل کر تقریر کر دی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جو کچھ ہوا اس کا اکثر حصہ عبث ہوا۔تم تبلیغ کرنے نہیں گئے تھے تم فرض شناسی کی طرف توجہ دلانے گئے تھے۔تبلیغ میں تو بعض دفعہ سالوں انتظار کرنا پڑتا ہے اور پھر کوئی نتیجہ نکلتا ہے لیکن فرض شناسی میں پندرہ سولہ منٹ کی دیر بھی نہیں لگتی۔تم اگر کسی دہریہ کو کہو گے کہ نماز پڑھو تو وہ پہلے خدا تعالی پر ایمان لائے گا، پھر رسول پر ایمان لائے گا اور پھر نماز کا اسے پتا لگے گا۔لیکن اگر تم کسی مسلمان بچہ کو کہو گے نماز پڑھو تو تم ایک دفعہ نصیحت کرو گے اور وہ عمل کرنے لگ جائے گا اور یا پھر تم اُس کو تھپڑ مارو گے کہ مسلمان بچے ہو کر نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ تم نے احمدیوں سے وعدے پورے کروانے تھے یورپین، ہندوؤں، چینیوں، زرتشتیوں یا جاپانیوں سے وعدے پورے نہیں کروانے تھے۔اگر تم نے یورپین ، ہندوؤں ، چینیوں، زرتشتیوں یا جاپانیوں سے وعدے پورے کروانے ہوتے تو پھر بیشک انتظار کی ضرورت تھی لیکن یہ جلسے تو تربیتی جلسے تھے۔ان کا نتیجہ اسی وقت نکل آنا چاہیے تھے۔آخر جو احمدی کہلاتا ہے وہ ایک مکان کی اینٹ بن چکا ہے، وہ زنجیر کا ایک حصہ بن چکا ہے، اُس نے بیعت کرتے ہوئے وعدہ کیا ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا، میں دین کے لیے جان و مال اور عزت سب کچھ قربان کر دوں گا۔اُس کا چندہ ادا نہ کرنا محض سستی ہے اور کچھ نہیں۔چاہیے تھا کہ کہا جا تا نو ماہ تک تم نے ستی کی ہے اب تم بیدار ہو جاؤ اور وعدہ ادا کر دو۔اگر اب ادا ئیگی میں تمہیں کوئی مشکل نظر آتی ہے تو اس کو برداشت کرو۔سستی اور غفلت کی سزا تمہیں بھگتنی چاہیے نہ کہ سلسلہ کو۔یہ چیز تھی جو اُس جلسہ کی غرض تھی ورنہ محض دھواں دھار تقریروں سے جن کا کوئی اثر نہ ہو کیا بنتا ہے؟ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ جتنی رپورٹیں میرے پاس آئی ہیں ان میں سے اکثر محض زیب داستان کے لیے تھیں اور شاید اگلے ماہ مجھے جلسہ کی پھر ضرورت ہو گی۔یہ جلسہ دھواں دھار تقریریں کرنے کے لیے نہیں ہوگا بلکہ اس جلسہ میں جماعت کے دوستوں کو کہا جائے گا کہ یا تو اتنی رقم یہاں رکھ دو اور یا دس پندرہ دن تک ادا کرنے کا وعدہ کرو۔یہ دین کا کام ہے جو باقی سب کاموں پر مقدم ہے۔اور اگر آپ لوگوں کو ادائیگی میں کوئی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے تو وہ تکلیف تمہیں برداشت کرنی پڑے گی۔تحریک جدید کے وعدوں کو ادا کرنے کے ذرائع بھی بتائے گئے ہیں